فاروقِ اعظمؓ کی سیرتِ مبارکہ کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے،جے یو آئی

48

حیدرآباد(نمائندہ جسارت)مرکزی جامع مسجد و مدرسہ تعلیم القرآن یونٹ نمبر 5 لطیف آباد میں منعقد ہ 10 روزہ محافلِ اہلسنّت کی پہلی نشستوں سے مفتی سیّدذیشان حسین قادری نے شہادت عمر فاروقؓ کی یاد میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ پروگرام سے خصوصی خطاب کیا جس میں سیّد نا عمر فاروقؓ کی سیرت مبارکہ کا خصوصی بیان دیتے ہوئے کہا کہ فاروقِ اعظم کی سیرتِ مبارکہ کا ایک ایک پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے جب اسلام قبول کیا تو ببانگ دہل کعبۃاللہ شریف میں آ کر اپنے ایمان لانے کااعلان کیا ،جب ہجرت کی تو اعلانیہ ہجرت فرمائی ،جب کبھی غزوات کا موقع آیا تو اس میں پیش پیش رہے، جب اولاد کی باری آئی تو اپنی بیٹی سرکار ﷺ کے نکاح میں پیش فرمادی جب عشقِ رسول ﷺ کی بات آئی تو یہودی کے مقابل میں منافق نے سرکار ﷺ کے فیصلے کو جب ماننے سے انکار کیا اور پس وپیش سے کام لیا تو آپؓ اس نام کے مسلمان منافق کی گردن اڑادی جس پر سرکار ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عمرِ فاروقؓکا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے ان کو بری فرمایا۔ یہ واقعہ حضرت عمرِ فاروقؓ کا فیصلہ قیامت تک کے لیے ہو گیا کہ گستاخِ رسول ﷺ کی سزا اسلام میں صرف اور صرف موت ہے ۔جب خلافت کی بات آتی ہے تو آپ کے دورِ خلافت میں اسلام کا جھنڈادنیا کے آدھے سے زیادہ حصے پر چھا گیا جب سادگی کی بات آئی آدھی دنیا کے خلیفہ امیرالمومنین کا بچھونا (تخت ) مسجد نبوی ﷺ کی چٹائی بنی جب سفر آخرت کا معاملہ آیا تو سرکار ﷺ کے مزارِ مبارک میں مدفون ہوئے الغرض ان کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے قابل تقلید اور قابلِ فخر ہے، حضرت عمرِ فاروقؓ کا طرزِ خلافت رہتی دنیا تک کے مسلمان حکمرانوں کے لیے ایک آئین کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریاستِ مدینہ منورہ کی طرز پر حکومت کے امور چلانے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی کابینہ کو فاروقِ اعظم کی سیرتِ مبارکہ پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ