کمشنر کامیئر حیدرآباد کے احکامات ماننے سے انکار

51

حیدرآباد(نمائندہ جسارت)میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے کمشنر نے میئر کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکارکردیا،میئر کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں ریلیف کیے گئے دوسرے محکموں کے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کیلیے ڈالے گئے دباؤ کو مستردکردیا،47ملازمین کو گزشتہ سال ریلیف کیاگیا تھا مگر میئرنے انہیں روک کر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تشریح کیلیے سیکرٹری لا کر خط لکھ کر پی پی کے تحت تنخواہیں ادا کرنے کاسلسلہ شروع کررکھاہے،مزید کئی دوسرے محکموں کے ملازمین کو بھی بلدیہ میں جوائننگ دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 16-03-2017 کو سابق میونسپل کمشنر شاہد علی خان نے عدالت عظمیٰ آف پاکستان کے آؤٹ آف ٹرن پرومن ،ڈیپوٹیشن ،نان کیڈر کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کی روشنی میں مختلف محکموں اورکونسلوں سے آئے ہوئے47ملازمین ارشدسعید،عبدالمقیم شیخ،حبیب الرحمن، محمد وقاص غوری،محمد وقارحسین زیدی، مرزا محمد عمران بیگ،سید محمد عاصم،راشد علی،قاسم علی، ڈاکٹر شبیہ حیدر، ڈاکٹر صلاح الدین،سید حسین رضازیدی ، محمد محسن شیخ،سیدمبین احمد، سید عارف سعید، ارشد حسین،مشتاق احمدخانزادہ، میرمحمد علی،محمددانش، نعیم احمد، سیدمحمد احمد، ایازخان، اصغرحسین،محمد صفدرعلی، فرقان ، ریاض احمد،محمد ناصر،شوکت،میرجان محمد، نعمان سعید، شکیل احمد،مقبول حسین،محمد عمران، ذوالفقار، بدر، کاشف، آفتاب، وقار، فرقان، عابدعلی، آفتاب، وقار احمد، دانیال ، سنور،محمد عمر،دانیال شہباز،راؤحارث کو آرڈر نمبر G:/27/2018جاری کرتے ہوئے بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد سے ریلیف کردیاتھا جبکہ اس حکم نامے کی کاپی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،میئرمیونسپل کارپوریشن حیدرآباد، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ،اکاؤنٹ آفیسر،ایچ ایم سی کے تمام شعبہ جات کے انچارجز،اے ڈی ایل ایف اے اورریلیف کیے گئے تمام ملازمین کو بھی دی گئی تھی ،مگر میئرسید طیب حسین نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میونسپل کمشنر کے مذکورہ احکامات کو سرد خانے کی نذرکردیا اورسیکرٹری لاء سندھ کوعدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تشریح کیلیے خط لکھادیاتھا جس کا ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی جواب تاحال نہیں آیا اوران ملازمین کو پی پی کے تحت تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے۔ذمے دارذرائع کاکہنا ہے کہ مذکورہ ملازمین کی اکثریت کی جانب سے دوسرے محکموں کے جمع کرائی گئی دستاویزات جعلی اوربوگس ہیں جبکہ انہیں بلدیہ میں جوائننگ دینے کے دوران سے تاحال آج تک ان محکموں سے تصدیق نہیں کرائی گئی ہے ،جبکہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی سنگین خلاف وزری کرتے ہوئے قاسم آباد ٹاؤن کمیٹی کے ملازمین فیاض کلیار اور شہزاد کو بلدیہ میں جوائننگ دی گئی ہے۔بلدیہ ذرائع کاکہنا ہے کہ واٹر کمیشن کے احکامات کی روشنی میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کے تحت ترقیاں پانے والے 11ملازمین کو ریورڈ کرنے کے بعد میونسپل کمشنر نصراللہ عباسی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے دوسرے محکموں کے تمام ملازمین کو تنخواہیں دینے انکار کردیا ہے اورمیئر کی جانب سے تنخواہیں جاری کرنے کیلیے بھیجی گئی دستاویزات کو بھی واپس کردیا ہے۔میونسپل کارپوریشن حیدرآباد میں عرصہ دراز سے جاری لاقانونیت اوراعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے اور قومی خزانے کو لوٹنے والے افسران کے خلاف فائنل کریک ڈاؤن پر بدعنوان مافیا میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اورایک بار پھر بلدیہ کے ایماندار افسران کو دھونس دھمکیوں کا سامنا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ