خواتین اول اور بیگم کلثوم نواز

141

شہزاد سلیم عباسی

پرانے ادوار میں خاتون اول کا لقب کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ مشرف دور کی شروعات ہی سے خاتون اول کا درجہ پانا گویا ایک خواب بن گیا۔ صبہا مشرف اکثر جنرل (ر) مشرف کے ساتھ پروگرامات، تقاریب اور بیرونی دوروں پر نظر آتی تھیں۔ کم و بیش 16 ایسی خواتین اول ہیں جو بوجوہ اپنی شناخت نہ بناسکیں۔ لیکن چار ایسی خواتین ہیں جنہوں نے انتھک محنت کی اور سیاسی، سماجی، فلاحی اور عالمی سطح پر نام بنایا اور پارٹی اور گھریلو، دونوں ذمے داریاں نبھائیں۔ پہلی خاتون اول رعنا لیاقت علی خان جن کی خدمات تاریخ پاکستان کا سنہری باب ہے۔ بیگم رعنا لیاقت کی تحریک پاکستان کے لیے محبت اور قربانی لازوال ہے۔ انہوں نے 1940 کی تاریخی قرارداد لاہور کے کلیدی نکات متعارف کرائے تھے اور قائداعظم کی رہنمائی میں قرارداد کے مسودے کی تیاری میں اہم کردار اداکیا تھا۔ بیگم رعنا نے حقوق ونسواں کے لیے جو کام کیے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ بیگم رعنا نے پاکستان نیشنل گارڈ، ویمن نیول ریزرو، گھریلو صنعتوں، تعلیمی اداروں بالخصوص ہوم اکنامکس کی تعلیم کے اداروں کے علاوہ پاکستان میں پہلی غیر سرکاری تنظیم اپوا بھی قائم کی تھی۔
پاکستان میں نصرت بھٹو کی بھی بڑی قربانیاں ہیں۔ بیگم نصرت بھٹوکی طرح شاید ہی کوئی خاتون ایسی ہو جس نے اپنی زندگی میں شوہر اور تین بچوں کی لاشیں اٹھائی ہوں۔ بیگم نصرت بھٹو انیس سو انتیس میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کراچی میں مقیم رہے اور بڑی کاروباری شخصیت تھے۔ نصرت بھٹو کی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے انیس سو اکیاون میں کراچی میں شادی ہوئی۔ ان کے چار بچے ہوئے۔ جن میں بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو شامل ہیں۔ نصرت بھٹو کی زندگی میں سکھ کم اور دکھ بہت نظر آتے ہیں۔ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اکیاون سال کی عمر میں انیس اناسی کو فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں پھانسی ہوئی۔ ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ستائیس برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی۔ جب کہ ان کے بڑے صاحب زادے مرتضی بھٹو کی انیس سو چھیانوے میں بیالیس برس کی عمر میں اپنی ہمشیرہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔
بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحب زادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں سن دو ہزار سات کو دہشت گردی کے حملے میں چون برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔ شاہنواز بھٹو کے انیس سو پچاسی میں قتل کے بعد ان کی میت پاکستان لانے کے سوال پر بینظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو میں کچھ تلخی ہوئی تو اس وقت بیگم صاحبہ نے بیٹی کی رائے کو تقویت دی۔ کیوں کہ میر مرتضیٰ بضد تھے کہ وہ اپنے بھائی کی میت پاکستان لے جائیں گے۔ جب کہ بینظیر بھٹو کی رائے تھی کہ فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے وہ ملک سے باہر رہیں۔ بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی وزارت عظمیٰ تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فوجی حکومت نے قید کیا تو ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا۔ انیس سو اناسی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستانی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنیں اور فوجی ڈکٹیٹر کو للکارا اور ان کے سامنے ہار نہیں مانی۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو اناسی سے انیس سو تراسی تک چیئرپرسن رہیں۔ انیس سو بیاسی میں کینسرکے باعث لندن چلی گئیں تو ان کی بڑی صاحب زادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ بیگم بھٹو اپنے صاحب زادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد ’الزائمر‘ نامی دماغی بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔
ایمرجنسیوں اور سخت مشکل حالات کا کوہ ہمالیہ بن کر مقابلہ کرنے والی بیگم کلثوم نواز کا انتقال ملک وقوم اور بالخصوص ن لیگ کے کارکنوں اور لواحقین کے لیے بڑا صدمہ ہے۔ مرحومہ ایک باوقار، با وجاہت، نڈر اور باہمت خاتون تھیں جنہوں نے اپنی بیماری اور نامساعد حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بیگم کلثوم نواز نے جنرل پرویز مشرف کے فوجی آمریت کے دور میں جمہوریت اور انسانی آزادی کے لیے آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔ وہ پاکستان کی واحد خاتون ہیں جنہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔ مرحومہ نے ملک کی خواتین کو جائز حقوق دلانے کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے 1999میں پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت اس وقت سنبھالی جب میاں نواز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا تو مرحومہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان مسلم لیگ ن کو 1999 سے 2002 تک ایک نئی پہچان اور شناخت دی۔ بیگم کلثوم نواز جنہوں نے میاں شریف سے لیکر بیٹے کی جلا وطنیوں اور قید و بند کی صعبتوں اور مختلف سازشوں کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا اور ہمیشہ نواز شریف کے شانہ بشاہ کھڑی رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ