انتخاب

76

’’جس طرح اخلاص اور حُسنِ نیت سے انسان مقامِ بلند پر فائز ہوتا ہے اسی طرح ریا اور بدنیتی سے پستیوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ ریا‘ خدا اور بندے کے درمیان ایک حجاب ہے۔ انسان ریا سے حیوانی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ نہ اس کے نفس کا تزکیہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی عمل قبول ہوتا ہے‘ اس لئے کہ ریاکار کی نہ کوئی رائے ہے نہ کوئی اصول ہے‘ نہ کوئی عقیدہ ہے۔ وہ تو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور جدھر کی ہوا ہوتی ہے اُدھر کو چل پڑتا ہے۔ ریا کا مقصد عبادت کے ذریعے جاہ و مرتبہ کا حصول ہوتا ہے۔‘‘
(’’اسلام دستورِ حیات‘‘۔۔۔ ظہیر الدین بھٹی)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ