وزیر اعلی سندھ نے سرکلر ریلوے منصوبہ پھر شروع کرنے کا اعلان ، چین نے تعاون کی یقین دہانی کرادی

195

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلی سندھ نے چینی قونصل جنرل سے ملاقات کے بعد کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ ایک بار پھر شروع کرنے کا اعلان کردیا، ایک علیحدہ ملاقات میں گرین لائن سمیت دیگر منصوبوں کی تکمیل سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چینی قونصل جنرل نے جمعہ کو وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی ، ملاقات کے بعد وزیر اعلی سندھ نے اعلان کیا کہ کراچی سرکلرریلوے کاکام جہاں رکاتھا،وہیں سے شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دھابیجی اکنامک زون اورکیٹی بندرمنصوبے سی پیک کاحصہ ہیں،منصوبے وفاقی حکومت کے ساتھ بات کرکے بڑھاناچاہتے ہیں،وزیراعلی سندھ نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ کینال لائننگ منصوبے پربھی بات کرچکے ہیں۔چینی قونصل جنرل نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے ساتھ کیے وعدے پورے کریں گے،چین کے تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری سندھ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کمشنر کراچی نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا کہ گرین لائن منصوبہ 24کلومیٹرطویل ہے، یہ منصوبہ 12.7 کلومیٹر ایلویٹڈ، 10.9 کلومیٹر زمین جب کہ 442 میٹر زیر زمین ہے، اس منصوبے پر سرجانی سے میونسپل پارک تک 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، منگھوپیرروڈ کی بحالی، نشترروڈ، شیرشاہ روڈ اور سڑکوں کاکام 15 فیصد ہوچکا ہے۔صالح فاروقی کا کہنا تھا کہ سرجانی میں بسوں کا ڈپو، پارکنگ، صفائی، ایندھن اور مینٹی نینس کے حوالے سے 60 فیصد کام ہوچکا ہے، آپریشن کمانڈاینڈ کنٹرول کی عمارت مکمل ہوچکی ہے لیکن اس کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے۔۔انہوں نے کہا کہ زیرزمین اسٹیٹ آف دی آرٹ بس ٹرمینل میں پارکنگ کی سہولت اور کمرشل میزنائن فلور بھی تعمیر کیے جارہے ہیں اور اس کا20 فیصد کام ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نمائش سے میونسپل پارک تک کامین کوریڈور کا نقشہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک نے تیار کیا تھا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘میں جانتا ہوں کہ یہ ڈیزائننگ کا کام کچھ وقت لے گا لیکن اب اس میں تیزی لائی جائے’ اور میں کوشش کر رہاہوں کہ منصوبے جتنا ہوسکے جلدی شروع کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری پانی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے اولین ترجیح ہیں اور عوامی مفاد میں ان کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ میجر (ر) اعظم سلیمان خان، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ حفیظ عمرانی، ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ اور پی ڈی فور اسد زمان اور دیگر بھی شریک تھے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں مجموعی طور پر روزانہ کی بنیاد پر فی کس پانی کی طلب 54 گیلن ہے اور اس طلب کو پورا کرنے میں انتہائی کمی ہے۔ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ نے کہا کہ بارشوں میں کمی کے باعث حب ڈیم میں پانی کی سطح 100 ایم جی ڈی سے 12 ایم جی ڈی تک کمی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سپلائی 493 ہے اور ٹرانسمیشن میں نقصان 148 ایم جی ڈی ہے اسی لیے سپلائی 345 میں کھڑی ہے اور 918 ایم جی ڈی کی طلب کے مقابلے میں 573 ایم جی دی کا واضح فرق ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں کو فراہم کیے جانے والے پانی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سائٹ ایریا کی طلب 80 ایم جی ڈی جس کے مقابلے میں 6 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہاہے، فیڈرل بی ایریا کی طلب 20 ایم جی ڈی ہے لیکن صرف 3 ایم جی ڈی حاصل ہورہا ہے۔اجلاس میں مزید کہا گیا ہے کہ لانڈھی کی طلب 50 ایم جی ڈی ہے اور 15 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہا ہے، سپرہائی وے سائٹ ایریا کی طلب 50 ایم جی ڈی لیکن حاصل صرف ایک ایم جی ڈی ہے۔شہر کے صنعتی علاقوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صنعتی علاقوں کی طلب 200 ایم جی ڈی ہے اور ان علاقوں کو 25 ایم جی ڈی فراہم کیا جارہا ہے اور فرق 175 ایم جی ڈی رہ جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ وہ شہر میں پانی کی طلب اور صنعتوں کی ضروریات پر یکساں توجہ دے رہے ہیں اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پانی کی صفائی کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی کمی کے شکار علاقوں کو ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پانی کے مفت ٹینکرز فراہم کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو شہر میں جاری 4 اہم منصوبوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی تاہم ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ یہ منصوبے دسمبر 2020 میں مکمل ہوں گے اور 14 کروڑ 30 لاکھ کی 100 ایم جی ڈی پمپ ہاؤس اسکیم کو مارچ 2019 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ