امریکا میں نماز پڑھنے کی وجہ سے نکالے گئے ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر اداکرنے کا فیصلہ

264

امریکا میں گوشت کی پیکنگ اور سپلائی کرنے والی مقامی کمپنی نے نماز کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیے گئے صومالیہ کے 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست کولو راڈو میں قائم ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ نامی کمپنی نے کچھ عرصہ پیشتر مسلمان ملازمین کو نماز کے لیے کام کے اوقات سے رخصت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی اور دوران ڈیوٹی نماز ادا کرنے والے ایک سو اڑتیس صومالی ملازمین کو نکال دیا تھا۔

امریکا میں ملازمین کے حقوق کے لیے قائم کردہ  ادارے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ جس کا صدر دفتر کنساس کے علاقے ویٹیچیسا میں ہے، نے نہ صرف نکالے گئے ملازمین کو ہرجانے کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرے گی بلکہ وہ مسلمان ملازمین کے لیے نماز کے اوقات میں انہیں وقفہ مہیا کرے گی۔

کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کمپنی کے بیان کے مطابق اس نے ملازمین کو مذہبی عبادات کی ادائیگی کی پاداش میں ملازمت سے نکال کر کوئی غلطی نہیں کی تاہم کمپنی کی طرف سے نکالے گئے افراد کی طرف سے عدالت میں دائر کردہ دعوے کے مطابق انہیں رقم ادا کی جائے گی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکی کیمپنی کے فورٹ مورگن میں موجود کارخانے کے مسلمان ملازمین کو نماز کے اوقات میں رخصت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی کمپنی کی طرف سے صومالی مسلمان ملازمین کو سنہ 2016ء کو ملازمت سے صرف اس لیے نکال دیا تھا کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں نماز ادا کرتے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.