نصاب دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں‘ پوزیشن ہولڈرز 

68

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں انٹرمیڈیٹ سال دوم سائنس پری میڈیکل کے امتحانات برائے 2018ء میں پہلی تینوں پوزیشنز لینے والی طالبات نے کہا ہے کہ انٹرمیڈیٹ کا نصاب دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق نہیں، اے اور او لیول کے نصاب زیادہ موثر ہیں،کیمیاء کی نصابی کتب میں غلطیاں ہیں اِسے فوری درست کرنے کی ضرورت ہے، انٹر کے نصاب کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کرنا ہو گا ، شہر کا سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ اور پینے کا صاف پانی نا ہونا ہے۔ جمعرات کو سالانہ امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ حسنیٰ عادل کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ اسکول سے میٹرک کیا تھا پہلے تاثر یہ تھا کہ سرکاری کالجز میں پڑھائی نہیں ہوتی مگر اب یقین ہوتا جا رہا ہے کہ سرکاری کالجوں میں پڑھائی ہوتی ہے،کچھ مضامین میں رٹا ضرور لگانا پڑتا ہے۔ انٹر کے کئی مضامین جدید تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں جنہیں اپ ڈیٹ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔،میری کامیابی میں والدین اور اساتذہ دونوں کا ہاتھ ہے ۔ روزانہ7 سے8 گھنٹے پڑھنے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے‘ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ زہرہ انس کا کہنا تھا کہ میٹرک سسٹم میں بہت سے مضامین میں رٹا لگانا پڑتا ہے جبکہ انٹر کے امتحانی نظام میں رٹا لگانے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ عثمان پبلک اسکول کیمپسون ہائر سکینڈری اسکول کی طالبہ خدیجہ اشرف کا کہنا تھا کہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر خوش ہوں‘ مستقبل میں ایم بی بی ایس کرنا چاہتی ہوں۔ لوڈشیڈنگ اور پینے کے پانی کی عدم فراہمی اِس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اِسے ترجیحی بنیادو ں پر حل ہونا چاہیے۔کامیابی کا سہرا میرے والدین، اساتذہ اور اسکول کو جاتا ہے۔ جنہوں نے میری ہر موقع پر حوصلہ افزائی کی۔ عثمان پبلک اسکول کیمپس1 ہائر سکینڈری اسکول انتظامیہ نے ہمارے لیے بہترین اساتذہ کی ٹیم مہیا کی جنہوں نے دن رات ایک کرکے ہمارے مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش کی۔ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی بحریہ کالج کی آمنہ سعید کا کہنا تھا کہ اللہ کے بعد میں اپنے والدین کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہر لمحہ میری رہنمائی کی اور تعاون کیا۔ میں ایم بی بی ایس کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں ا ور آرمی میں جاکر میڈیکل شعبہ کا حصہ بننا چاہتی ہوں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ