عدالت عظمیٰ کا بیٹی کو 16 برس کے اخراجات ادا کرنیکا حکم

72

اسلام آباد (آن لائن/ صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے والد کے چھوڑ جانے پر بیٹی کی جانب سے سرکاری دستاویزات میں ولدیت کے خانے میں ’’پاکستان‘‘ لکھنے کی درخواست کے معاملے پر والد شاہد ایوب کو گزشتہ 16 برس کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے نادرا سے تمام ریکارڈ 10 روز میں طلب کرتے ہوئے ایف آئی اے کو بھی لڑکی کے والد کا مالی ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے تفصیلات کے مطابق والدین کی طلاق سے متاثرہ لڑکی تطہیر فاطمہ نے رواں ماہ کے آغاز میں درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ میری تمام سرکاری دستاویزات سے باپ کا نام خارج کرکے اس کی جگہ ’’بنت پاکستان‘‘ کردیا جائے کیونکہ ساری زندگی نہ کبھی وہ مجھ سے ملے اور نہ ہی پرورش کے اخراجات دیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بینچ کے سامنے درخواست گزار تطہیر فاطمہ، والدہ فہمیدہ بٹ، والد شاہد ایوب، ڈائریکٹر نادرہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے تطہیر فاطمہ کے والد سے استفسار کیا کہ اتنے سال آپ نے اپنی بیٹی سے کیوں رابطہ نہیں کیا، اپنے فرائض کیوں سرانجام نہیں دیے اور کفالت کیوں نہیں کی؟ اگر آپ والد ہونا تسلیم نہیں کرتے تو میں اس بچی کا والد ہوں۔ والد شاہد ایوب نے جواب دیا کہ یہ میری بیٹی ہے، میں نے اس سے ملنے کی بہت کوششیں کیں، میری بیٹی مجھے کبھی نہیں ملی اور اس کی والدہ نے میری ہمیشہ بے عزتی کی ہے، عدالت جو حکم کرے تعمیل کروں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوششیں کیں؟ ہمیں تو کچھ نظر نہیں آرہا۔ آپ کیسے والد ہیں، لڑکی کو چھوڑ کر چلے گئے، جس پر والد نے کہا کہ میں نے نہیں چھوڑا، مجھے تو لڑکی کی ماں ملنے ہی نہیں دیتی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 سال سے آپ بیٹی سے نہیں ملے، آپ کو شرم آنی چاہیے، ہم خود دیکھیں گے کہ کس طرح لڑکی کے نقصان کا مداوا کیا جائے۔ تطہیر فاطمہ کی والدہ نے کہا کہ شاہد ایوب کو میں نے 10 سال بھگتا ہے جس نے میرے اوپر کیچڑ اچھالا۔ متاثرہ لڑکی تطہیر فاطمہ کا کہنا تھا کہ میں جب میٹرک میں تھی تو اس وقت مجھے کچھ دستاویزات کی ضرورت پڑی لیکن مجھے میرے والد نے کہا کہ دستاویز تب دوں گا، جب قریبی تھانے میں لکھ کر دو گی کہ ’’تمہاری والدہ بدکردار عورت ہے اور میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی‘‘۔لڑکی کے بیان پر چیف جسٹس نے والد کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے اس لڑکی کے کئی سال ضائع کردیے، آپ کو اس کا مداوا کرنا پڑے گا، چاہے چوری کرو یا ڈاکا ڈالو لیکن تمام گزرے برسوں کا خرچ آپ سے لیا جائے گا۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ میں غریب آدمی ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غریب ہو تو جیل چلے جاؤ، سول مقدمات کا سامنا کرو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.