کلیات اور جزئیات میں بنیادی فرق ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

102

 

لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ اسلامی معاشرے کے بنیادی اوصاف کیا ہیں؟ اسلام میں خاندان کیسا ہوتا ہے؟ خاندان کے تعلقات کیا ہیں؟ خاندان کس بنیاد پر قائم ہے؟ یورپ میں جو خاندان ٹوٹا ہے تو کیوں ٹوٹا ہے؟ دنیاے اسلام میں جو ٹوٹ رہا ہے تو کیوں ٹوٹ رہا ہے؟ وہ کیا چیز بگڑ گئی ہے جس سے ٹوٹ رہا ہے؟ ان کلیات کا سوال جب کیا جاتا ہے تو اس کے جواب دینے میں بالعموم دو غلطیاں ہوتی ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ہم میں سے بہت سارے انسان اسلام کی کلیات کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تعلیم ایسی ہے جو جزئیات پر مشتمل ہے۔ پھر کلیات کے حوالے سے وہ تین چیزوں میں فرق نہیں کرتے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو قرآن کے نصوص ہیں، جن کے بارے میں دو راے نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح کچھ وہ ہیں جو احادیث اور سنتِ متواترہ سے ثابت ہیں، وہ نصوص کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ اصول جو فقہ کی اصطلاح میں قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہیں، یہ دین کی اساسات ہیں۔ یہ ہیں وہ کلیات جن پر معاشرے کو زندہ رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کلیات کی کسی تعبیر پر اْمت کا اتفاق ہے تو یہ بھی انھی کا حصہ ہیں۔ لیکن اس کے بعد کسی ایک یا دو تین فقہا کی ذاتی آرا ہیں تو وہ کلیات نہیں ہیں۔ ان کلیات کے بارے میں اگر اس دور کے اہلِ علم یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے لیے یہ راے، یا فلاں تعبیر، یا فلاں اجتہاد زیادہ موزوں ہے تو اس کو بھی آپ کلیات میں شامل کرلیں، لیکن جو جزوی اور انفرادی آرا ہیں، مثلاً شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی ایک راے ہے، امام شافعیؒ کی ایک راے ہے، امام غزالیؒ کی ایک راے ہے، ضروری نہیں کہ وہ راے ہمارے لیے اسی طرح متعلق ہو جیسے قرآن پاک متعلق ہے۔ دونوں کو ایک جگہ پر رکھیں گے تو قباحتیں پیدا ہوں گی۔ قرآن پاک کا جو دوام ہے وہ امام غزالیؒ کی راے کو حاصل نہیں ہے۔ سارے احترام کے باوجود وہ امام ابوحنیفہؒ یا کسی اور کی راے کو بھی حاصل نہیں ہے۔
اس بات کا خیال نہ رکھا جائے تو بڑی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب آپ یورپ یا امریکا تشریف لے جائیں۔ وہاں ایک عالم ہندستان سے آئے بیٹھے ہیں، ایک سعودی عرب سے، ایک مصر سے۔ امریکا کا ایک سیدھا سادہ آدمی جس نے کل اسلام قبول کیا ہے، ایک اس کو ایران کی بتا رہا ہے، ایک طوران کی، ایک کہیں اور کی بتا رہا ہے، اور کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ یہ بے چارہ نہ شافعی ہے، نہ حنبلی، نہ مالکی، نہ حنفی۔ یہ کچھ نہیں، یہ تو مسلمان ہے۔ گویا یہ سنہ 25 ہجری میں مسلمان ہوا ہے۔ اس کو آپ ان چیزوں میں کیوں پھنساتے ہیں، اس پر کیوں آپ فقہ حنفی مسلط کر رہے ہیں، کیوں فقہ شافعی یا فقہ اہلِ حدیث یا جو بھی ہے، وہ آپ اس پر مسلط کر رہے ہیں۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر یہ ہوتا ہے کہ تم ہاتھ یہاں باندھو، اذان ہو تو انگوٹھا چومو یا مت چومو۔ ابھی آپ کچھ نہ کیجیے، اس کو نماز پڑھنا سکھائیے جو کہ اساسِ دین ہے۔ جب وہ نماز پڑھنا سیکھ لے گا تو جس مسلم معاشرے میں اس کی تربیت ہوگی اور جس مسلم ماحول کا وہ حصہ بنے گا، بتدریج وہ خود ہی اختیار کرلے گا۔ پھر جب وہ آپ سے مسائل پوچھے تو آپ اسے بتائیں۔
اس حد تک بھی یہ گوارا ہے کہ یہ بھی فقہا کے اقوال ہیں، وہ بھی دین کے معتبر شارحین کے ارشادات ہیں۔ اس حد تک بھی چلیے مان لیں، لیکن کچھ چیزیں ہیں جو مقامی رواج ہیں۔ کسی رواج کا اسلام کے مطابق ہونا اور چیز ہے اور اسلام ہونا اور چیز۔ ایک رواج ہے جو اسلام سے متعارض نہیں، قابلِ قبول ہے، لیکن اس رواج کو آپ مسلمانوں پر زبردستی مسلط کریں، یہ اسلام کا تقاضا نہیں۔ آپ کسی شیخ کے مرید ہیں، ان کا اللہ کی بارگاہ میں بہت اْونچا مقام ہے، ان کا کچھ ذاتی ذوق تھا، آپ کا جی چاہتا ہے تو آپ اس ذوق کی پیروی کریں، نہیں جی چاہتا مت کریں، لیکن پیغمبرؐ کے علاوہ کسی کے ذوق کو زبردستی دوسروں سے منوانا یہ شریعت کا نہ تقاضا ہے اور نہ حکم ہے۔ مثلاً آپ کے بزرگ ایک خاص انداز سے عمامہ باندھتے ہیں، آپ کو ان سے محبت ہے تو اْس طرح کا عمامہ باندھیے، لیکن جب آپ لوگوں سے یہ کہیں کہ اس طرح کا عمامہ باندھنا دین کا تقاضا ہے تو یہ چیز قابلِ اعتراض ہوجاتی ہے اور اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ دین یہ نہیں کہتا کہ فلاں بزرگ کی طرح عمامہ باندھو یا فلاں بزرگ کی طرح کا لباس پہنو۔ ہاں، اگر کوئی مرد سونے کی انگوٹھی استعمال کرتا ہے تو اس کی نصوص میں ممانعت ہے، اس لیے اس کو روکیں۔ کوئی عورتوں جیسا لباس پہنتا ہے تو اس کو بھی روکیں، کیونکہ اس کی بھی شریعت میں ممانعت ہے۔
یہ تین چیزیں ہیں جن میں عام طور پر لوگ تفریق نہیں کرتے۔ نصوص کیا ہیں؟ جو دائمی ہیں۔ جو امریکا، برطانیہ ، فرانس، مصر، ہر جگہ رہیں گی۔ ائمہ کرام کے اجتہادات اس ماحول کے مطابق ہیں جس میں اس ماحول کے مانوس لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادات سے مانوس لوگ چلے آرہے ہیں۔ سالہا سال سے یہاں وہ چیز اس حد تک قابلِ قبول ہے جہاں تک ہمارے ہاں رہی ہے۔ لیکن اس ماحول سے نکل کر آپ امریکا جائیں اور امریکا کے نومسلم کو زبردستی کہیں کہ تم ہاتھ یہاں باندھو۔ وہ کہے کہ میں تو یہاں باندھتا چلا آرہا ہوں، آپ کہیں کہ آپ کی نماز نہیں ہوئی۔ اب وہ بے چارہ جو دس سال سے یہاں ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا چلا آرہا ہے، آپ نے اس کی نماز کو شک میں ڈال دیا۔ کسی مالکی امام سے اسلام قبول کرنے کے باعث وہ ہاتھ چھوڑ کر پڑھتا تھا، آپ نے کہا کہ اس طرح تو نماز نہیں ہوتی۔ اب وہ پریشان ہوا کہ میں کیا کروں؟ میری نماز ہوئی کہ نہیں؟ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کو ان کے حدود میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک دفعہ مجھے بقرہ عید پر انگلستان کے ایک شہر میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ طے ہوا کہ سارے مسلمان ایک جگہ پر عید کریں گے۔ اب ایک خاص علاقے کے لوگوں کا اصرار تھا کہ عید منانے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ بچپن سے ہم اسی طرح مناتے چلے آرہے ہیں اور ہمارے آبا واجداد اسی طرح کرتے آرہے ہیں۔ ایک دوسرے علاقے کے مسلمانوں کا اصرار تھا کہ ہم ایسے کریں گے۔ پندرہ بیس وہاں کے مقامی مسلمان حیران تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ترک کہتے تھے ایسے کرو، حالانکہ عید کا حکم شریعت میں نہ وہ ہے نہ یہ ہے۔ شریعت کچھ نہیں کہتی۔ ہمارا ایک رواج ہے جو شریعت کے مطابق ہے تو قابلِ قبول ہے، اور شریعت سے متعارض نہیں ہے تو بھی قابلِ قبول ہے، لیکن وہ دین اور شریعت نہیں ہے۔ وہ بس ہمارے یہاں کا رواج ہے۔
اس لیے دین کے جو کلیات قرآن اور سنت ہیں وہ دین کی دعوت کا موضوع ہیں۔ باقی چیزیں دعوتِ دین کا موضوع نہیں ہیں۔ وہ تحقیق، راے، فتویٰ اور اجماع کا اور ذاتی ذوق کا موضوع ہے، ان کو دعوت کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ دعوت کا موضوع وہ چیزیں ہیں جو قرآن پاک، سنت اور دین میں متفق علیہ ہیں۔ جو چیزیں صحابہ کرامؓ سے چلی آرہی ہیں، جو چیزیں صحابہ کرامؓ میں متفق علیہ نہیں تھیں، وہ دین نہیں ہوسکتیں۔ اگر آپ کہیں کہ وہ دین ہے تو جو صحابہ اس سے ہٹے ہوئے تھے تو گویا نعوذ باللہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ جو چیز تابعین میں متفق علیہ نہیں تھی، وہ دین نہیں ہے۔ وہ اجتہاد ہے، راے ہے اور فتویٰ ہے۔ اگر آپ ایک راے کو دین کہیں تو دوسری راے کو کیا کہیں گے؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ