حکومت کے منی بجٹ کے باعث 400 سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ

174

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سابق وائس چیئرمین وپاکستان وونگ ملز ایسوسی ایشن کے موجودہ سینئر صدر اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں(کل) ہفتہ15ستمبر کو ہونے والے سالانہ انتخابات میں منیجنگ کمیٹی کے عہدے پرپیٹریاٹ بزنس مین گروپ کے امیدواریوسف یعقوب پرنس نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے نئے منی بجٹ کے باعث 400 سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ عوام مہنگائی کے نئے طوفان کے لیے تیار نہیں لہٰذا حکومت عوام کے درپیش معاشی مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا۔یوسف یعقوب پرنس نے نئی حکومت کی جانب سے فنانس بل 2018-19 ء میں ترامیم کر نے کے لیے اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے کے فیصلے مشکل ترین فیصلہ قرار دیااور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا قومی اسمبلی کا اجلاس اسی سلسلے میں جلدطلب کیا جائے گا،حکومت اس اجلاس کے دوران ہی فنانس بل اسمبلی میں پیش کرے گی۔یوسف یعقوب پرنس نے مزید کہا کہ 400 سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ عوام مہنگائی کے نئے طوفان کے لیے تیار نہیں لہٰذا حکومت عوام کے درپیش معاشی مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے ۔ یوسف یعقوب پرنس کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر نے 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے اور تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے جس کے براہ راست اثرات متوسط طبقے پر پڑیں گے۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنا دیا تھا اور اب منی بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرح 12 لاکھ سے کم کرکے 4 لاکھ کرنے اور انکم ٹیکس کے ریٹس 30 جون سے پہلے والی سطح پر لانے کی تجویز زیر غور ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ