نیو ورلڈ آرڈر کی شرط سرخ بچھیا

185

 

 

اس وقت عیسائی اور صہیونی دنیا ایک عالم خوشی و سرمستی میں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب وہ وقت قریب آن پہنچا ہے جب پوری دنیا پر ان کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی خوشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی سرخ بچھیا کو پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس پر سرخ رنگ کے علاوہ ایک بال بھی کسی دوسرے رنگ کا نہیں ہے۔ آخر سرخ بچھیا کا صہیونیوں اور عیسائیوں کی خوشی کا کیا تعلق؟ سب سے پہلے تو اس ابہام کو دور کرتے ہیں۔
صہیونیوں کا عقیدہ ہے کہ جب تک ہیکل سلیمانی کی تعمیر نہیں ہوتی، اُس وقت تک سیدنا مسیح اس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔ یہ ہیکل سلیمانی کی تیسری تعمیر ہوگی جو صہیونیوں کے نزدیک آخری ہے۔ ہیکل سلیمانی کی مختصر تاریخ ’بیت المقدس ہی اسرائیل کا دارالحکومت کیوں‘ کے عنوان سے دسمبر 2017 میں لکھ چکا ہوں۔ یہ مضمون چار اقساط پر مشتمل تھا اور میری ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ہیکل سلیمانی کی ازسرنو تعمیر کے لیے سب کچھ تیار ہے مگر صہیونی ربّی کہتے ہیں کہ اس وقت یہودی حالت ناپاکی میں ہیں۔ جب تک انہیں پاک نہیں کردیا جاتا، اس وقت تک ہیکل کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر اس کے برخلاف کیا گیا تو یہودیوں پر بڑی آسمانی آفت آئے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں کو پاک کس طرح کیا جائے۔
سیدنا موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایک صندوق عطا کیا تھا جسے تابوت سکینہ کہتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیل ’بیت المقدس ہی اسرائیل کا دارالحکومت کیوں‘ کی تیسری قسط میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ روایات کے مطابق یہ صندوق ایک الگ خیمہ میں رکھا جاتا تھا جہاں پر سیدنا ہارون ؑ سمیت کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سال میں صرف ایک دن جو تہوار کا دن ہوتا تھا، اس خیمے میں سیدنا ہارون ؑ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے بخشش طلب کرتے تھے۔ اس خیمے میں جانے سے قبل ایک گائے اور دو بکرے قربانی کے لیے لائے جاتے تھے۔ سب سے پہلے گائے کی قربانی پیش کی جاتی تھی۔ گائے کو اس کے خون، گوبر، چربی سمیت جلادیا جاتا تھا۔ یہودیوں کے مطابق اس سے ہارون ؑ کی پاکی وجود میں آتی تھی۔ یعنی ان سے لاعلمی میں جو بھی خطائیں سرزد ہوتی تھیں، اللہ پاک انہیں معاف فرمادیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دو بکرے لائے جاتے تھے۔ ان کی قرعہ اندازی ہوتی تھی۔ جس بکرے کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا تھا، اس کی قربانی گائے کی طرح کرکے جلادیا جاتا تھا۔ اس بکرے کی قربانی سے بنی اسرائیل گناہوں سے پاک ہوتے تھے۔ دوسرے بکرے کے سر پر سیدنا ہارون ؑ ہاتھ رکھ کر بنی اسرائیل کے تمام گناہوں کو اس پر منتقل کردیا کرتے تھے اور پھر اس بکرے کو بیاباں میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔
صہیونیوں کا ماننا ہے کہ یہودیوں کی پاکی اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتی جب تک سرخ رنگ کی بچھیا کی قربانی نہ پیش کی جائے۔ اس سرخ بچھیا کا گزشتہ دو ہزار برسوں سے یہودی ربّی انتظار کررہے ہیں۔ یہ سرخ بچھیا ان تمام شرائط پر پوری اترنی چاہیے جو یہودی مذہبی کتب میں موجود ہیں۔ یعنی یہ بے عیب ہو اور مکمل طور پر سرخ ہو۔ اس کا ایک بال یا ایک رواں بھی کسی دوسرے رنگ کا نہیں ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ اس پر کوئی تل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ چند ربّی دو بالوں تک کی چھوٹ دیتے ہیں کہ اگر سرخ رنگ کے علاوہ پورے جسم پر دو بال کسی اور رنگ کے ہوں تو اس کی چھوٹ ہے۔
اس سرخ بچھیا کے بغیر صہیونی غلبے کی ریشہ دوانیوں کو اس کی تکمیل کے لیے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ اس لیے اس بچھیا کی تلاش پوری دنیا میں جاری تھی۔ کئی دفعہ ایسی سرخ بچھیا کو ڈھونڈھ بھی لیا گیا مگر مذہبی رہنماؤں کے مطابق یہ تمام شرائط پر پورا نہیں اترتی تھی، اس لیے پھر سے نئی تلاش شروع کردی گئی۔ چوں کہ سرخ بچھیا کہیں سے دستیاب نہیں ہورہی تھی اور صہیونیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا تھا اس لیے انہوں نے شارٹ کٹ ڈھونڈا۔ تیسرے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے اسرائیل میں باقاعدہ ایک ادارہ The Temple Institute کے نام سے کام کررہا ہے جس میں ہر طرح کے ماہرین موجود ہیں۔ انہیں پتا چلا کہ ٹیکساس کے ایک فارم میں سرخ رنگ کی ایسی گائیں موجود ہیں جو ان کی شرائط کے قریب قریب ہیں۔ گائے کی اس نسل کا نام Red Agnus تھا۔ ان کے ماہرین ٹیکساس کے اس فارم میں پہنچے اور انہوں نے Red Agnus کے انڈے (embryos) حاصل کیے اور اس کے بعد اسرائیل میں ایک فارم میں جہاں پر گائے کی افزائش ہوتی تھی، بے عیب سرخ رنگ کی بچھیا کی بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب طریقے سے پیدائش کی کوششیں شروع کردیں۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی ماہرین ایک مطلوبہ بچہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو مکمل طور پر سرخ رنگ کا تھا۔ تاہم صہیونیوں کی امید پر اس وقت اوس پڑگئی جب انہیں پتا چلا کہ یہ بچہ نر ہے مادہ نہیں۔ یعنی مذہبی شرائط کی رو سے بچھیا درکار ہے بچھڑا نہیں۔ اس کے بعد دوبارہ کوششیں شروع کردی گئیں۔
اب 28 اگست کو The Temple Institute ایک سرخ رنگ کی بچھیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین ربّیوں کے ہمراہ روز اس بچے کا معائنہ کرتے ہیں۔ اگر صورت حال مطلوبہ شرائط کے مطابق رہی اور یہ بچھیا کسی حادثے یا طبعی موت کا شکار نہیں ہوئی تو اس کی قربانی دو سال کی عمر میں مجوزہ ہیکل سلیمانی کے دروازے کے باہر کی جائے گی۔ اس کے گوشت کے ٹکڑوں، کھال، خون، چربی و گوبر سب کو خوشبودار لکڑیوں میں جلایا جائے گا۔ اس کی راکھ کو مطلوبہ شرائط رکھنے والے پانی میں ملا کر منتخب کاہنوں پر چھڑکا جائے گا تاکہ وہ ہیکل سلیمانی کے تمام علاقے میں جاسکیں اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع کی جاسکے۔
عیسائیوں کا عقیدہ ہے سیدنا عیسیٰ ؑ آکر عیسائیت کی تجدید کریں گے جبکہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہودیوں کی بالادستی قائم ہوگی اس لیے دونوں ہی خوش ہیں۔ سیدنا عیسیٰ ؑ کی دنیا میں آمد کا مطلب ہے کہ قیامت کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ ؑ نے صلیب پر چڑھ کر ان کے سارے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے اس لیے سارے عیسائی بلا حساب جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔ جب کہ کچھ ایسا ہی عقیدہ یہودیوں کا بھی ہے۔ اس لیے ان دونوں مذاہب کے ماننے والے انتہا پسندوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح قیامت کی شرائط کو پورا کردیا جائے تاکہ وہ جنت میں فوری طور پر داخل ہوسکیں۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ