کلثوم نواز، نواز شریف کو قید میں ہی چھوڑ گئیں

173

 

 

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز 68 سال 5 ماہ اور 13 دن زندگی گزار کر منگل کو لندن میں انتقال کر گئیں۔ وہ تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہنے کے باوجود اس لحاظ سے بدقسمت رہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دن اپنے ملک اور شوہر میاں محمد نواز شریف سے دور رہ کر گزار دیے اور اس جہاں سے چلی گئیں۔ نواز شریف کی بھی یہ بدنصیبی رہی کہ وہ شدید بیماری یا کومہ کی حالت میں اپنی بیوی کو دو ماہ قبل 12 جولائی کو آخری بار لندن کے اسپتال میں ’’بستر مرگ‘‘ پر دیکھنے کے باوجود چھوڑ کر ملک واپس آگئے تھے۔ کلثوم نواز گزشتہ کئی ماہ سے شدید بیمار تھیں انہیں گلے کا کینسر تھا۔ ان کے انتقال کی خبر کو بہت دکھ سے ملک کے تمام شہروں میں سنا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی اہلیہ دنیا سے جاتے ہوئے ملک کی گرم سیاسی فضاء کو سوگوار کرگئیں۔
میاں نواز شریف، ان کی بیٹی اور داماد کی بدقسمتی کہ وہ تینوں ان دنوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز شریف اپنے شوہر نواز شریف سے تقریباً ایک سال چھوٹی تھیں مگر ان کا ازدواجی ساتھ 47 سال 5 ماہ کا تھا۔ وہ 29 مارچ 1950 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اردو ادب میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ رستم گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ ان کے بارے میں خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی ایک ایسی شریک حیات تھیں جو ان کی سیاسی اور کاروباری مشیر بھی تھیں۔ ان کی بیماری سے قبل نواز شریف ان سے مشورہ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتے تھے گو کہ نواز شریف کی کامیاب زندگی کی پشت پر بیگم کلثوم کا اہم کردار رہا۔ کلثوم نواز، نواز شریف کو پیار سے باوجی کہا کرتی تھیں۔ نواز شریف کی کلثوم نواز سے آخری ملاقات لندن کے اسپتال میں ہوئی تھی۔ وہ پاکستان آنے سے قبل اپنی بیوی سے بات کرنے کے لیے اسپتال کے بیڈ پر جھکے کہہ رہے تھے ’’کلثوم آنکھیں کھولو، آنکھیں کھولو کلثوم میں باوجی۔۔۔ کلثوم آنکھیں کھولو میری طرف دیکھو‘‘۔ مگر کلثوم نواز بے ہوشی کی حالت میں رہیں، آنکھیں کھول سکیں اور نہ ہی لب ہلا کر یا اشارے سے بھی نواز شریف کو کسی بات کا جواب دے سکی تھیں۔ کلثوم نواز کی میت لندن سے لاہور جمعہ (آج) کو لائے جانے کا امکان ہے۔ کلثوم نواز کی نماز جنازہ اور تدفین کے لیے حکومت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بارہ گھنٹے کے لیے پیرول پر رہائی دیے جانے کا امکان ہے۔ جہاں جاتی امراء میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی اور تدفین کی جائے گی۔ نواز شریف کے دونوں بیٹے حسن اور حسین اور سمدھی و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کلثوم نواز کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت نہیں کرسکیں گے کیوں کہ وہ نیب عدالت کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔ اس طرح یہ بات بھی نواز شریف کے خاندان کے لیے بدقسمتی کا باعث ہوگی۔
2018 نواز شریف کے لیے اس لحاظ سے بھی برا گزر رہا ہے کہ اس سال 6 جولائی کو انہیں اور ان کی بیٹی و داماد کو قید اور جرمانوں کی سزائیں دی گئیں جس کے بعد وہ 13 جولائی کو لندن میں اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر واپس ملک آگئے یہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نواز شریف اور ان کے خاندان نے جو تکالیف بھگتیں ان میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہلی اور عام انتخابات میں ان کی خاندانی پارٹی مسلم لیگ کی ہی ٹی آئی سے واضح شکست بھی شامل ہے۔ خاندانی ذرائع اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ نواز شریف کے لیے کلثوم نواز کی موت کا صدمہ بہت گہرا ہے۔ وہ اس صدمے کو قید کی حالت میں مشکل ہی سے برداشت کر پائیں گے۔ امکان ہے کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کی وفات کے صدمے میں ملکی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف دس سال کی سزا ہوچکی ہے جب کہ انہیں عدالت عظمیٰ جھوٹا اور خائن قرار دیکر کسی بھی عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے چکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ