واٹر بورڈ کی نا اہلی نے شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا

58

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نااہلی کے باعث شہر قائد کی مختلف سڑکوں کا انفرااسٹرکچر تباہ ہونے لگا۔ صاف پانی کو ترسی عوام کے لیے واٹر بورڈ کی ٹوٹنے والی لائن سے ہزاروں گیلن پانی روزانہ ضائع ہونے لگا۔ صاف پانی کے ضیاع اور سیوریج لائنوں کا پانی سڑکوں پر مسلسل بہتے رہنے سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔ مختلف علاقوں میں پانی کی ٹوٹی ہوئی لائنوں کی مرمت نہ کرنے سے صاف پانی کو ترسی عوام کو مزید پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سڑک پر پانی بہنے سے شہر کے مختلف علاقوں کا انفرااسٹرکچر بھی تباہ ہورہا ہے۔ واٹر بورڈ حکام نے پانی کی ٹوٹی ہوئی لائنوں کو جوڑنے اور سیوریج کے پانی کی سڑکوں پر بہتے رہنے پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔ اس کی واضح مثال مبارک شہید روڈ کی ہے جس پر عرصہ دراز سے پینے کے صاف پانی کی لائن ٹوٹی ہوئی ہے اور نالوں کی صفائی نہ ہونے سے سیوریج کا پانی بھی سڑک پر بہتا ہے۔ سڑک پر پانی جمع رہنے کے بعد باعث جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑچکے ہیں۔ روزانہ درجنوں موٹر سائیکل سواروں کا ان گڑھوں میں گر کر زخمی ہونا معمول بن گیا۔ صدر سینٹ پیٹرک اور لکی اسٹار سے آنے والی سڑک جو شارع فیصل پر جا ملتی ہے۔ اس بدنصیب سڑک پر صاف پانی کی لائن ٹوٹے رہنے کے باعث اور سیوریج کا پانی مسلسل جمع رہنے سے آنے اور جانے والے راستوں پر بابا آئل سروس اسٹیشن نزد سابقہ 602 آرمی ورک شاپ کے عین سامنے سے لے کر میکرو شاپنگ اسٹور تک سڑک ٹوٹ پھوٹ اور تباہ ہوگئی ہے۔ سڑک کی دونوں جانب کئی کئی فٹ گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں۔علاقہ مکینوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، ایم ڈی واٹر بورڈ، میئر کراچی وسیم اختر، چیئرمین بلدیہ شرقی معید انور سمیت دیگر سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد اس سڑک کی مرمت کروائی جائے تاکہ یہاں کے رہائشی اور راہگیر ذہنی اذیت سے چھٹکارا پاسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ