کورنگی میں ترانسپورٹ مافیا آزاد،ٹھیلے پھتروں کیخلاف آپریشن

52

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی کمشنر کورنگی نے ٹرانسپورٹ مافیا کو نوازنے کیلیے ٹھیلے پتھاروں کے خلاف آپریشن شروع کردیا،غیر قانونی انٹرسٹی بس ، منی بس اور ٹرک اڈوں کی وجہ قیوم آباد کے داخلی راستے بند ہوگئے جبکہ اے ایریا میں علاقے میں آنے والی سڑک پر بھی ٹرانسپورٹ مافیا نے قبضہ کرکے مکمل بندکردیاہے،بی ایریا کے مین روڈ پر پولٹری فارمرز نے اپنی ٹرانسپورٹ کا غیر قانونی اڈاہ بنالیاہے،صورتحال کے پیش نظر پیدل چلنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،علاقہ مکینوں نے وزیراعلی سندھ ،کمشنرکراچی اور میئرکراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا سے مکمل نجات دلائی جائے۔تفصیلات کے مطابق کورنگی کے علاقے قیوم آباد میں نئی مردم شماری کے مطابق تقریباً 90ہزار شہری مقیم ہیں جو بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ مافیا کے درمیان بری طرح سے پھنسے ہوئے ہیں تاہم ڈی سی کورنگی کی جانب سے منگل کو قیوم آباد میں نام نہاد تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا جس میں سیکٹر A تا سیکٹر D تک آنیوالی سڑک پر موجود ٹھیلے پتھاروں کو ہٹایا گیا جبکہ ہیوی ٹریفک کے لیے قائم غیر قانونی اڈوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،سیکٹر اے کے داخلی راستے پر واٹرٹینکرز کا قبضہ رہتاہے ،سیکٹراے سے علاقے کے اندر آنیوالی سڑک پر ٹرانسپورٹ مافیا نے قبضہ کرکے مکمل طورپر عام ٹریفک کیلیے بند کردی ہے،سیکٹر B کے داخلی راستیاور خارجی راستوں پر W21 کے روٹ پر چلنیوالی منی بس کا غیر قانونی اڈاہ قائم ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہی پولٹری فارمرز نے پوری فٹ پاتھ پر قبضہ کرکے اپنی ٹرانسپورٹ کھڑی کردی ہے جہاں مستقل بنیادوں پر ٹرانسپورٹ کھڑی رہتی ہے،بی اسی طرح C ایریا کی سڑکوں پر غیر قانونی انٹرسٹی بسوں کے اڈے قائم ہیں جن کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ نام نہاد آپریشن کرکے محض ٹھیلے پتھاروں کا صفایا کیا گیا مکینوں کے مطابق علاقے میں اصل مسئلہ غیر قانون ہیوی ٹریفک کے قائم اڈوں کاہے جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کا پیدل چلنا محال ہوگیا ہے ،علاقہ مکینوں میں یہ تاثر شدید پایا جارہاہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا کو نوازنے کیلیے ٹھیلے پتھاروں کے خلاف آپریشن کیا گیا اور علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ ،کمشنرکراچی اور میئرکراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرنیوالے اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کرنیوالے ٹرانسپورٹ مافیا سے مستقل بنیادوں پر نجات دلائی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ