تنخواہ دار طبقے کیلیے رعایت کم، سپر ٹیکس پھر نافذ

565
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد(نمائند ہ جسارت /خبر ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2018ء کے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کر دی ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے تنخواہ دار طبقے کے لیے دی گئی رعایت کم کردی گئی ہے جبکہ سپر ٹیکس پھر نافذ کردیا گیا ہے جس کی شرح 3 فیصد ہو گی۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آرڈیننس 2018ء میں کی گئی ترامیم کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔4 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا جب کہ 4لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس دینا ہو گا۔8لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس لگے گا۔12 لاکھ روپے سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ 24لاکھ روپے سے48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر60 ہزار روپے ٹیکس ہو گا۔ 24 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے ٹیکس ہوگا۔ نئے ٹیکس آرڈیننس کے مطابق 24لاکھ سے زیادہ اور 48 لاکھ روپے پر10 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔48لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 3 لاکھ فکسڈ کے علاوہ اضافی 15 فیصد ٹیکس ہوگا۔علاوہ ازیں ایسوسی ایشن آف پرسنز کی 4 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر4 فیصد ٹیکس ہو گا۔12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔ 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 10 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر1 لاکھ 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا۔24 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 15 فیصد اضافی ٹیکس عاید ہو گا۔36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 3 لاکھ 40 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ہوگا۔ 36 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 20 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔48 لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 25 فیصد اضافی ٹیکس ہوگا۔ 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 8 لاکھ 80 روپے فکسڈ ٹیکس ہو گا 60 لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن پر 30 فیصد اضافی ٹیکس ہو گا۔بینک کے سوا کمپنیز کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہو گی۔،کمپنیز کی آمدن پر ہر سال ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی ہو گی۔ 2023ء اور اس کے بعد کمپنیز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد رہے گی۔ چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 24 فیصد سالانہ ہو گی۔ چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر ہرسال ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی ہوگی چھوٹی کمپنیوں کی آمدن پر 2023ء کے بعد ٹیکس کی شرح 20 فیصد ہوجائے گی۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ترامیم کا اطلاق فوری طور پرہو گا، ماہ ستمبر کی تنخواہوں سے نئے ٹیکس ریٹ کے مطابق کٹوتی ہوگی ۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت کیڈ کو ختم کرنے ،اورنج ٹرین ،راولپنڈی ،لاہور ،ملتان میٹرو بس منصوبوں کے آڈٹ ، ایک لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دی گئی ۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی تنخواہ دار طبقے پر کوئی ٹیکس عاید کیا جارہا ہے، میڈیا کو افواہوں کے بجائے خبریں تصدیق کے بعد نشر اور شائع کرنی چاہئیں،بیرون ممالک سے رقم واپس لانے کے لیے خصوصی یونٹ بین الاقوامی فرانزک ماہرین کی خدمات لے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.