ملک میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے،احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا،وزیراعظم

151

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے اور احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا، خود کو نہ بد لا تو آگے تباہی ہی تباہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سول سرونٹس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم تو آتے جاتے رہتے ہیں آپ لوگ گورنمنٹ کا حصہ رہتے ہیں۔ آپ لوگ گورنمنٹ کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں آپ پاکستان کی موجودہ صورتحال سے واقف ہیں۔ پاکستان پر قرضے پر ہر روز چھ ارب روپے کا سود دینا پڑتا ہے،ہمیں اپنے ملک کو چلانے کے لئے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے ،اﷲاس قوم کی حالت کو کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہے عوام کو اپنے آپ کو بدلنا ہے،اگر ہم اپنے آپ کو نہیں بدلیں گےتو آگے تباہی ہے۔ ہر روز نوجوان مارکیٹس میں جاب تلاش کررہے ہیں ہم نے ایسے ایسے پراجیکٹس بنائے ہوئے ہیں ان کے لئے قرضے لینے پڑرہے ہیں۔ کوئی چیز دنیا میں ناممکن نہیں مجھے ساری دنیا کہا کرتی تھی تم کچھ نہیں کرسکتے میں ساری زندگی یہ سنتا رہا ہوں ہمارا ملک جب سے آزاد ہوا ہے ہم نے اپنے ذہن نہیں بدلے ہم نے اپنا ذہن غلاموں والا رکھا ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ بچے پاکستان میں گندہ پانی پینے سے مر جاتے ہیں یہ بہت بڑا ظلم ہے اس قوم پر، ہم اپنے بچوں کو بہتر خوراک نہیں دے رہے۔ ڈھائی کروڑ بچےا سکول نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں نئی تبدیلیاں آرہی ہیں میں نے چیئرمین نیب کو بھی بتایا احتساب کا عمل ضروری ہے احتساب کے بغیر ملک میں بہتری نہیں کی جاسکتی،ملک میں تباہی کرپشن سے ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو یہ بھی کہنا چاہتا ہوں آپ چانسز لیں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں غلطی مجھ سے بھی ہوتی ہے، آپ کو عمران خان یا پی ٹی آئی پسند ہو یا نہ ہو مجھے اس سے کوئی خدشہ نہیں مجھے ملک کی بہتری کے لئے کام چاہئے۔ ہم 1960 میں اچھی بیوروکریسی رکھتے تھے ہم سیاسی مداخلت کے باعث بیوروکریسی کو کہاں لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ  میں پاکستان کی بیوروکریسی کو 60 والی بیوروکریسی پر لانا چاہتا ہوں، کوئی بھی ادارہ میرٹ پر چلتا ہے تووہ آگے نکل جاتا ہے ہم اپنی بیوروکریسی کو غیر سیاسی بنائیں گے ہماری کوشش ہے ہم اپنی بیوروکریسی کو بہتری کی طرف لے کر جائیں گے، آپ کو اعتماد میں لے کر ساتھ چلیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ سے کہتا ہوں اس کو برداشت کریں دنیا میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے کوئی بھی قوم بغیر تکلیف کے آگے نہیں جاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ قوم بڑی تیزی سے اوپر جائے گی۔ہمارے اوورسیز پاکستانی ہیں جن کے پاس بہت پیسہ ہے ہمارے پاس اتنا پیسہ آجائے گا کہ سیلرڈ کلاس کے لوگ بے فکر ہوجائیں گے۔آپ کی تنخواہ آپ کو کوالیفکیشن کے مطابق نہیں ہے ہم نے دو سال گزارا کرنا ہے ہم اتنا پیسہ لے کر آئیں گے ہماری بے روزگاری ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کا خاتمہ ہوجائے گا ہمارے پاس بہت سے وسائل موجود ہیں آج لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارے ملک میں کتنے وسائل ہیں میں نے اپنے ملک کی ہر اونچ نیچ دیکھی ہے ہم اپنی بیوروکریسی کو غیر سیاسی بنا کر عزت دلوائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ