سی پیک ایسٹ انڈیا کمپنی بن رہی ہے، سراج تیلی

426

سی پیک کا جو کا م پاکستان میں ہو رہا اس میں پاکستانیوں کو نوکری نہیں دی جا رہی ہے

اس کے برعکس چین کی جیلوں سے قیدیوں کو نکا ل کر پاکستان میں بھیجا جا رہا ہے

بی ایم جی کے امیدوار کے سی سی آئی کے الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گے، سراج تیل
تاجروصنعتکار برادری بی ایم جی کے ساتھ ہے، اپوزیشن کی زمانتیں ضبط ہوجائیں گی ، چیئرمین بی ایم جی

کراچی:بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ سی پیک ایسٹ امڈیا کمپنی والا کام رہی ملک کی صنعت وتجارت کے لیے تباہ جن ہے ،انھوں نے کہ عبدالرزاق داؤد نے اس کا از سر نو جائیزی کی بات کر کراچی چیمبر کی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ سی پیک کا جو کا م پاکستان میں ہو رہا اس میں پاکستانیوں کو نوکری نہیں دی جا رہی ہے اس کے برعکس چین کی جیلوں سے قیدیوں کو نکا ل کر پاکستان میں بھیجا جا رہا ہے جس امن ومان کی صورتحا ل خراب ہو رہی ہے۔انھوں نے کہ کے سی سی آئی کے الیکشن برائے2018-19 میں بی ایم جی کے تمام 15امیدوار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے اور اپوزیشن کو زمانتیں ضبط ہونے کا سامنا کرنے پڑے گا کیونکہ تاجر و صنعتکاربرادری کی وا ضع اکثریت بی ایم جی کے ساتھ ہے۔بزنس مین گروپ نے 1998سے ’’ عوامی خدمت ‘‘ کی پالیسی پر مؤثر انداز میں کام کرتے ہوئے کراچی چیمبر کو چلایاجس کی وجہ سے ماضی میں مالی مشکلات کے شکار کراچی چیمبر کو مالی طور پر ایک خود مختار، مستحکم اور مضبوط ادارہ بنا دیا گیا۔ یہ بات انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے موقع پر کہی۔اس موقع پر وائس چیئرمنز بی ایم جی و سابق صدور کے سی سی آئی طاہر خالق،زبیر موتی والا،ہارون فاروقی،انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطاملک،سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف، سابق صدر اے کیو خلیل اور بی ایم جی کے امیدواروں کے علاوہ منیجنگ کمیٹی کے اراکین، دیگر سابق صدور و بی ایم جی کے حامی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے یونائیٹڈ بزنس مین گروپ (یو بی جی) کے چیئرمین ایس ایم منیر نے پہلے بی ایم جی کی حمایت کی پھر اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے ہماے مخالفین جن کی سرپرستی اے کے ڈی اور مقصود اسماعیل کی جانب سے کی جارہی ہے ان کی حمایت کا اعلان کیا تاہم یہ اقدام بی ایم جی کی حق میں گیا کیونکہ ان کا بہروپ سب کے سامنے عیاں ہو گیا اور بی ایم جی کے اُمیدواروں کی حوصلہ افزائی اور کے سی سی آئی انتخابات میں مکمل حمایت کے لئے کئی دوسرے لوگ آگئے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بی ایم جی کی قیادت اور ان کے امیدواروں نے کبھی بھی کوئی یوٹرن نہیں لیا اور چاہے کیسے بھی حالات ہو جو کہا اسے پورا کیا۔
انہوں نے بزنس مین گروپ کی مجموعی طاقت اور حمایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کئی تجارتی ایسوسی ایشنز، صنعتی ٹاؤن ایسوسی ایشنز، کمرشل مارکیٹوں کی ایسوسی ایشنز،سینکڑوں چھوٹے اوربڑے تاجروں اورصنعتکاروں نے آنے والے الیکشن میں بی ایم جی کی تہہ دل سے مکمل حمایت کی ہے اور انہیں ایک بار پھر درخواست کی جاتی ہے کہ وہ کراچی چیمبر آکر اپنا ووٹ ڈالیں اور انتخابات میں اپنی گنتی کروائیں۔اس ضمن میں حال ہی میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت میں بزنس مین پینل (بی ایم پی) ایف پی سی سی آئی میں یو بی جی کے مدمقابل ہوتا ہے اور اس کی سرپرستی لاہور سے میاں انجم نثار کررہے ہیں اس پینل نے بی ایم جی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ یہ اعلان بی ایم پی کے کراچی میں مختلف نمائندے بشمول میاں ذاہد حسین، ذکریا عثمان،شوکت احمد، ناصر حیات مگوں اور دیگر20 اہم تاجروصنعتکاروں نے ہفتے کی رات ایک عشائیے میں کیا جس میں انھوں نے کے سی سی آئی انتخابات میں بی ایم جی کی حمایت کی یقین دہانی کروائی ۔ ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں ۔ یہ وہ تاجرو صنعتکار ہیں جو کراچی کی کاروباری سیاست اور بی ایم جی کے کام سے بخوبی واقف ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ انہوں نے کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان، ناصر ترک، سلیم میمن اور الیکٹرونک مارکیٹ اور پیپر مارکیٹ کے دیگر قابل ذکر افرادکے علاوہ شہر بھر کی دیگر اہم مارکیٹوں کے نمائندوں کی جانب سے بی ایم جی کی حمایت کو سراہا۔
سراج قاسم تیلی نے کہاکہ مخالفین اور ان کے حمایتی کاروباری ماحول کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جو بی ایم جی کے لیے کچھ نیا نہیں کیونکہ یہ تمام افراد جنہوں نے اے کے ڈی سے تعلق رکھنے والیہمارے مخالفین کی حمایت کی ہے وہ 2001اور2004 میں کے سی سی آئی کے انتخابات میں ایسا پہلے بھی کرچکے ہیں جن میں انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس بار2018کے انتخابات میں بھی مخالفین کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑے گا کیونکہ بی ایم جی کو تاجروصنعتکار برادری کی واضع اکثریت کی سپورٹ حاصل ہے ۔
انہوں نے مخالفین اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے لگائے گئے، گمراہ کن، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ میرے بارے میں غلط اور منفی ریمارکس دیے گئے جن کا جواب دینا مناسب نہیں۔اگر انہیں مجھ سے کوئی ذاتی دشمنی ہے تو امیدواروں کی حمایت کرنے کے بجائے سامنے آکر براہ راست مقابلہ کریں۔انہوں نے مخالف پارٹی کے تبدیلی کے نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ کے سی سی آئی میں کس قسم کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں یہ وہ ادارہ ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا گیا اور کے سی سی آئی کا ریسرچ ڈیپارٹمنٹ، میڈیا ڈیپارٹمٹ اور تمام ہی ڈیپارٹمٹ بہترین کارکردگی پیش کر رہے ہیں جن کا موازنا ملک بھر کے کسی اور چیمبر سے نہیں کیا جاسکتا۔ 20سالوں سے تمام کام شفاف طریقے سے کیا جاتا رہا ہے اورمخالفین نہ سراج تیلی نہ کسی اور بی ایم جین کے خلاف ایک پیسے کی بھی کرپشن کو ثابت نہیں کرسکتے۔تبدیلی کی اصطلاح عمران خان نے مسلم لیگ ن کی حکومت کی کرپشن کے خلاف متعارف کروائی۔اس اصطلاح کا کے سی سی آئی انتخابات جیتنے کی غرض سے غلط استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ چیمبر میں تو تمام کام شفاف طریقے سے کیا جارہا ہے۔ قومی سیاست میں ہارنے کے بعد یہ عناصر وہی الزامات کی سیاست کے ہربے کے سی سی آئی کے انتخابات میں استعمال کررہے ہیں جنہیں کراچی کی پوری تاجر و صنعتکار برادری فوراً مسترد کردے گی۔مخالفین کو میرا چہرہ پسند نہیں اور وہ اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو پوری تاجربرادری کو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کیونکہ یہ سب تاجروصنعتکار برادری کے لیے میری نان اسٹاپ خدمات کے بارے میں جانتے ہیں۔

بی ایم جی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ بی ایم جی کی کے سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے خدمات اورکامیابیوں کو الفاظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا تاہم انہوں نے بعض بڑی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کے سی سی آئی کی جانب سے شوکت عزیز کے وزارت عظمیٰ کے دور میں این ایف سی ایوارڈ میں روینیو جینریشن کو شامل کرنے کے لیے حکومت پر زور کراچی چیمبر کی جانب سے دیا گیا۔کے سی سی آئی نے بولٹن مارکیٹ اور ٹمبرمارکیٹ کے سانحے میں متاثر ین کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔کراچی میں قیام امن کو بحال کرنے میں بھی کے سی سی آئی کی جدوجہد کو نہیں بھلایا جاسکتا۔ کراچی چیمبر نے تمام سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 2013 میں اس بات پر قائل کیا کہ کراچی آپریشن کا آغاز کیا جائے ۔کے سی سی آئی نے قدرتی آفات کے متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں،کلفٹن میں کے سی سی آئی کی نئی عمارت کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا گیا، کاروبار مخالف پالیسیوں پر بھرپور مذمت کی اور ساتھ ہی کئی دوسرے اقدامات تاجربرادری کے بہتر ترین مفاد میں کیے۔ان تمام سالوں میں بی ایم جی اینز نے اقتصادی مسائل پر مسلسل آواز بلند کی اور تاجروصنعتکار برادری سمیت شہر کو متاثر کرنے والے تمام ہی معاملات میں اپنے آپ کو شامل کیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر کی جانب سے اٹھائے جانے والی مضبوط آواز کی وجہ سے 2013 میں کراچی آپریشن کا آغاز ہوا اور اس وقت کسی بھی تجارتی باڈی حتیٰ کہ ایف پی سی سی آئی نے بھی امن وامان کے خلاف اس طرح آواز بلند نہیں کی جس مو ئثر انداز میں کراچی چیمبر نے کی۔ پچھلے 20سالوں میں حاصل ہونے والی ان تمام تر کامیابیوں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ریکارڈ میں دیکھا جاسکتا ہے اور ان میں سے کچھ کا ذکر آپ کو مہیا کی گئی کتا ب میں بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1998 سے اب تک بی ایم جی نے کے سی سی آئی کے انتخابات میں تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس کی وجہ کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کی اکثریت کی وسیع پیمانے پر حمایت ہے جبکہ بی ایم جی اینز گزشتہ 11 سالوں سے انتخابات میں مسلسل بلامقابلہ جیت رہے ہیں۔1998میں کے سی سی آئی کے انتخابات میں حصہ لینے کی بنیادی وجہ چیمبر میں کئی غلط پالیسیاں تھیں۔ہماری کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہ کبھی تھی، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگی۔
سراج قاسم تیلی نے کہاکہ بی ایم جی اینز نے کراچی چیمبرکو اپنی زندگیوں کابے پناہ قیمتی وقت دیتے ہیں اور انھوں نے کبھی کے سی سی آئی کے مالی وسائل سے کوئی فنڈز نہیں لیے بلکہ کراچی والوں کی خدمت کرتے ہوئے عوامی خدمت کو شعار بنایا جو بی ایم جی کی پہلے دن سے واضح پالیسی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ایم جی کی کی عوامی خدمت پالیسی پر بلا تفریق عمل کیا جاتا ہے اور نہ صرف تاجربرادری بلکہ کراچی کے عوام کی بھی بلا رنگ ونسل خدمت کی جاتی ہے۔ہم نے کے سی سی آئی کے امور میں تمام برادریوں کی شمولیت کو یقنی بنایا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 20سالوں کے دوران کسی بھی ایک برادری نے ناانصافی کا دعویٰ نہیں کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com