عدالت عظمیٰ: چینلز اور اخبارات کو رہائشی علاقوں سے دفتر خالی کرنیکا حکم

39

اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے نجی ٹی وی چینلز و اخبارات کو رہائشی علاقوں سے دفاتر ہٹانے کیلیے 4 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر اس عرصے میں دفاتر نہ ہٹائے گئے تو سی ڈی اے دفاتر سیل کرنے کا مجاز ہوگا اور اس دوران ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جی دفاتر کے باہر کھڑی نہیں کی جائیں گی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نجی ٹی وی اے آر وائی کے بیوروچیف صابر شاکر اور بول ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز سمیع ابراہیم کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کسی شخص نے ٹی وی چینلز کیخلاف درخواست نہیں دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مقدمہ غیر متعلقہ تھا تو ٹی وی چینلز کو اس میں فریق بننے کی کیا ضرورت تھی؟۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ نے مقدمے کے دائرے کو وسیع کرکے دیگر لوگوں کو بھی شامل کر لیا۔ سی ڈی اے نے دفتر بند کیے تھے تو ٹی وی چینلز سول کورٹ جاتے، یہ تو آ بیل مجھے مار والی بات ہے، رہائشی علاقوں میں
لوگ سکون سے رہنا چاہتے ہیں لیکن ٹی وی چینلز کے دفاتر کے باہر گاڑیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ٹی وی چینلز بتا دیں کتنے عرصے میں رہائشی علاقوں سے دفاتر خالی کردیں گے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ 4 ہفتوں میں دفتر خالی کرکے رجسٹرار کو رپورٹ کریں ورنہ عدالتی حکم عدولی کی کارروائی کریں گے۔
عدالت عظمیٰ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ