معیشت کو 10 برسوں کی نا قص پالیسیوں نے تباہ کردیا ، حنیف لاکھانی

160

 

کراچی کلب کے صدر اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئرنائب صدرمحمد حنیف لاکھانی نے جسارت سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پاکستانی معیشت کے مستحکم ہونے کے قوی امکانات ہیں،گزشتہ 10برسوں کے دوران ناقص پالیسیوں نے معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کو بیوروکریسی کی چالبازیوں سے محفوظ رہ کر ملکی بہتر مفاد میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قابل عمل پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کراچی کلب میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بننے سے قوم نے مثبت توقعات باندھ لی ہیں،ہرشعبے میں حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کا عزم قابل ستائش اورقوم کے لیے ایک اچھا پیغام ہے

جس کے مثبت اثرات تمام تر شعبوں پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے اور اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بلکہ اب اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،اکنامی کی صورتحال اگرچہ اس وقت بہتر نہیں ہے مگر ایک مضبوط اور پرعزم ٹیم کے ساتھ عمران خان بزنس کمیونٹی کو ساتھ ملا کر پاکستان کو ایک مضبوط معاشی ملک بنانے کی جانب قدم بڑھائیں تو اس کے بہتر نتائج ملیں گے،ملکی معیشت ترقی کرے گی تو ٹیکس کی وصولی بھی بڑھے گی ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایف بی آر میں اصلاحات کااعلان مثبت ہے لیکن چور کے ہاتھ میں رکھوالی کا عمل مزید نقصان دے سکتا ہے اس کے لیے ٹیکس وصولی کے مراحل کو سہل بنانا ہوگا،اصلاحات کے عمل سے گزارتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایف بی آر کے جن افسران کو غیرضروری اختیارات سونپ دیے گئے ہیں ان پاورز کو ختم کیا جائے تاکہ ہراسمنٹ بھی ختم ہوسکے کیونکہ ان غیرضروری اختیارات سے خوفزدہ ہوکر بے شمار سرمایہ کار اپنا سرمایہ سمیٹ کر دوسرے ملکوں کا رخ کرچکے ہیں اور وہاں کامیابی کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حنیف لاکھانی نے کہا کہ100دن میں ڈائریکشن تو مل سکتی ہے مگر کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ ہی اس عرصے میں معیشت کی بحالی،بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکتا ہے اس لیے ہمیں بغیر کسی مخالفت اور بغیررکاوٹوں کے عمران خان کی حکومت کو مسلسل 5سال دینا ہوں گے تاکہ وہ برائیوں کو جڑ سے ختم کرسکیں۔صدر کراچی کلب نے کہا کہ پاکستاان کی ایکسپورٹس کو ہرصورت میں بڑھاناہوگالیکن ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کسی قسم کی مزید مراعات نہ دی جائیں،نہ تو روپے کی ڈی ویلیوایشن کا فائدہ ہے اور نہ مزید ری بیٹ کی شرح بڑھانے کی ضرورت ہے۔
تاہم یوٹیلٹیز کے نرخ کو ضرور کم کیا جائے تاکہ ہرچھوٹا اوربڑا کاروباری ایکسپسورٹ کے دائرے میں آسکے،اگر ہم عالمی مارکیٹ میں اپنی پروڈکٹس دوسرے ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں سستی نہ کرپائے تو پھر پاکستان عالمی مارکیٹ سے آؤٹ ہوجائے گا اور پاکستان میں ڈالرزکی آمد رک جائے گی۔حنیف لاکھانی نے مزید کہا کہ افریقی مارکیٹوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،ان مارکیٹوں میں چھوٹا ایکسپورٹر پہنچے گا بڑے ایکسپورٹرزیہ محنت نہیں کرے گا اس لیے چھوٹے ایکسپورٹرز کو سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے ریفنڈز موجودہ حکومت ایک ہی بار ادا کرکے کھلے ماحول میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرے اور ایکسپورٹر بھی دلجمعی کے ساتھ اپنی توجہ ایکسپورٹ پر مرکوز رکھ سکے،اور آئندہ کے لیے ریفنڈز کا نیا طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ چوری کا خاتمہ ہوسکے۔