انتخابات رکوانے کی سازش،بنوں اور مستونگ میں بھی دھماکے ،132افراد 132جاں بحق 300سے زائد زخمی

153
مستونگ میں انتخابی مہم کے دوران دھماکے سے جاں بحق افراد کی نعشیں اسپتال میں رکھی ہیں ۔جاں بحق ہونے والے امیدوار سراج رئیسانی کی یادگار تصویر
مستونگ میں انتخابی مہم کے دوران دھماکے سے جاں بحق افراد کی نعشیں اسپتال میں رکھی ہیں ۔جاں بحق ہونے والے امیدوار سراج رئیسانی کی یادگار تصویر

بنوں /کو ئٹہ(خبرایجنسیاں +نمائندہ جسارت) بنوں اور مستونگ میں دھماکوں کے نتیجے میں 132افراد جاں بحق اور 200سے زائد زخمی ہوگئے۔ دونوں حملوں میں انتخابی امیدواروں کو نشانا بنانے کی کوشش کی گئی۔ مرنے والوں میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور سینیٹر لشکر رئیسانی کے بھائی سراج رئیسانی بھی شامل ہیں جو حال ہی میں بنے والی بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماتھے۔ تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ جمعہ کو خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں پیش آیا۔متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی بنوں نوخیل ہاؤس سے 25کلومیٹر دور نوائی علاقے ہوید میں جلسہ کرکے واپس آرہے تھے کہ جلسہ گاہ سے 40میٹر دور نصب بم ڈیوائس سے ان کے قافلے کونشانا بنایا گیا،حملے میں 4افراد جاں بحق اور3بچیوں سمیت 39 زخمی ہوئے جن میں سے 8کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے بنوں ڈی ایچ کیو منتقل کیا گیا، حملے میں سابق وزیراعلیٰ محفو ظ رہے تاہم ان کے ساتھ سیکورٹی اسکواڈ کے متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ بنوں شہر میں دور دور تک اس کی آواز سنی گئی۔ اکرم درانی بنوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ 135سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیر ے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے خیریت سے ہوں لیکن افسوس ہے کہ ایسے واقعات آخر کیوں کیے جاتے ہیں جن میں بے گناہ لوگوں کو نشانا بنایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ شہید لوگوں کی مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ واضح رہے کہ نیکٹا کی جانب سے 6حساس سیاست دانوں میں اکرم خان درانی کا نام بھی شامل تھا۔دوسرا واقعہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیش آیا جہاں 128 افراد جاں بحق جب کہ271زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ قائم لشاری کے مطابق واقعہ مستونگ شہر سے 20کلومیٹر دور درینگڑھ کے علاقے میں پیش آیا ، جہاں خودکش حملہ آور نے بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی جلسے کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت سے پورا علاقہ لرز اٹھا ۔ واقعے کے بعد پولیس لیویز اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشوں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔ دھماکے میں نوابزادہ سراج رئیسانی بھی شدید زخمی ہوگئے۔جنہیں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ سراج رئیسانی حلقہ پی بی 35 مستونگ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے ، ان کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی آزاد حیثیت سے اسی نشست پر الیکشن لڑرہے ہیں۔ واضح رہے 26 جولائی 2011ء کو مستونگ کے فٹ بال گروانڈ میں میچ کے دوران دہشت گردی کے واقعے میں سراج رئیسانی کے بیٹے حقمل رئیسانی بھی جاں بحق ہوگئے تھے اس حملے میں سراج رئیسانی محفوظ رہے تھے۔سراج رئیسانی نے حال ہی میں اپنی پارٹی بلوچستان متحدہ محاذ کو بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کردی تھی۔سراج رئیسانی کی نماز جنازہ آج سہ پہر 3بجے ساروان ہاؤس میں ادا کی جائے گی جب کہ تدفین آبائی قبرستان کانک میں ہوگئی۔بلوچستان عوامی پارٹی نے واقعے پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین ‘ نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک اور سیاسی ومذہبی قائدین نے دونوں واقعات کی شدید مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پراظہار افسوس کیا ہے۔ صدرمملکت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پوری قوم نے متحد ہوکر دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے اور ملک سے آخری دہشت گردکے خاتمے تک ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ،جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول زرداری ،صدر ن لیگ شہباز شریف ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الیکشن کمیشن سے امیدواروں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائد ین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پرامن ماحول میں غیر جانبدرانہ انتخابات پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.