غزہ پر اسرائیلی فوج کی شدید بمباری

91

قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ پٹی کی سرحد پر واقع اسرائیلی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجائے۔ قابض اسرائیلی فوج کے لڑاکا طیاروں نے غزہ پٹی میں مختلف اہداف کو حملوں کا نشانہ بنایا جن میں ایک سرنگ شامل ہے۔

ادھر فسلطینی مزاحمت کار گروپوں نے اسرائیلی علاقوں کی جانب 17 راکٹ داغے جن میں 5 کو اسرائیل کے آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ناکارہ بنا دیا جب کہ ایک راکٹ یہودی بستی کے اندر گرا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق فلسطینیوں کی جانب سے دستی بموں کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہو گیا۔

فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ پٹی کے وسط میں البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں واقع القسام بریگیڈز کے ٹھکانے میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ القسام بریگیڈز فلسطینی تنظیم حماس کا عسکری ونگ ہے۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی کے شمال میں بھی القسّام بریگیڈز کے دو دیگر ٹھکانوں پر کئی میزائل داغے گئے۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں الزیتون کے علاقے میں زرعی اراضی پر متعدد میزائل داغے۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح کے مشرق میں اسرائیلی کراسنگ صوفا کے نزدیک غیر آباد زرعی اراضی کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق فلسطینی مسلح گروپوں نے غزہ پٹی کے متوازی اسرائیلی قصبوں کی جانب 30 کے قریب مارٹر گولے اور کئی میزائل داغے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ فلسطینی حملوں کا مقصد دشمن کو اس امر پر مجبور کرنا ہے کہ وہ جارحیت روک دے۔ ترجمان کے مطابق فلسطینی قوم کا تحفظ اور دفاع قومی تقاضہ اور تزویراتی آپشن ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کے نزدیک جھڑپوں میں اسرئیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی لڑکا شہید اور 220 افراد زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کے اہل کاروں نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی اور اسرائیلی اراضی میں دراندازی روکنے کے واسطے براہ راست فائرنگ کی۔

جمعہ کی دوپہر غزہ پٹی کی مشرقی سرحد پر ہزاروں فلسطینی جمع ہو گئے تھے۔ ان میں متعدد افراد نے سرحد کے نزدیک ٹائر بھی جلائے۔ فلسطینیوں کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کو باور کرانے کے لیے احتجاج کا سلسلہ تقریبا 100 روز قبل شروع ہوا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.