ترکی کا ہنگامی حالت ختم کرنے کا فیصلہ

87

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ جولائی 2016ء میں انقلاب کی کوشش کے بعد سے ملک میں نافذ ایمرجنسی میں 18 جولائی کے بعد توسیع نہیں ہو گی۔

ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد ترجمان کا کہنا تھا کہ “حالیہ نافذ العمل ہنگامی حالت کا اختتام 18 جولائی کی شام ہو رہا ہے اور ہمارے صدر اس میں توسیع کا ارادہ نہیں رکھتے”۔

کالن نے مزید کہا کہ “انسداد دہشت گردی کا عمل موجودہ قوانین کے تحت جاری رہے گا۔ البتہ غیر معمولی حالات میں ایمرجنسی کو ایک بار پھر نافذ کیا جا سکتا ہے”۔

ترکی کے حکام نے ملک میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد 20 جولائی 2016ء کو 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہنگامی حالت کی مدت میں بنا کسی وقفے کے توسیع کی جاتی رہی۔ اس کے نتیجے میں ترکی کے نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس نے صدر اور سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات دے رکھے ہیں۔

ترکی کے حکام نے ہنگامی حالت کے سلسلے میں امریکا میں مقیم ترک نژاد  فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کی۔ انقرہ حکومت گولن کو ملک میں آخری انقلابی کوشش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتی ہے۔

البتہ گرفتاریوں اور بے دخلی کی مہم گولن کے حامیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے کردوں کے مسئلے کے حمایتیوں، ذرائع ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

جولائی 2016ء کے بعد سے تقریبا 77 ہزار افراد کو جیل بھیجا گیا اور 1.7 لاکھ سے زیادہ افراد کو ملازمت اور کام سے بے دخل کر دیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ