ہماری تمہاری عید

387
زاہد عباس

راجو باقاعدگی سے سحری کرتا اور دن بھر کھاتا پیتا بھی رہتا،شام کو جوں ہی وقت افطار قریب آتا وہ دسترخوان پر یوں جا بیٹھتاجیسے بغیر سحری کا روزہ ہو،ایک دن راجو کی والدہ اسے دوپہر کا کھانا کھاتے ہوے دیکھ کر بولی!
’’روزہ خور!کیا تو نے روزہ نہیں رکھا؟آنے دے تیرے باپ کو بتاؤں گی سحری بھی کرتا ہے اور افطار کے وقت بھی دسترخوان پر آن بیٹھتا ہے مگر روزہ نہیں رکھتا۔‘‘
سو راجو کی ماں نے شوہر کے گھر آتے ہی ساری حقیقت اس کے سامنے رکھ دی۔
’’کہاں ہے راجو ؟بلاؤ اسے۔‘‘
’’جی ابو ۔۔۔‘‘ راجو والد کے سامنے پیش ہو کر بولا۔
’’کیا کہہ رہی ہے تیری ماں کمبخت تو روز سحری کرتا ہے اور افطار بھی کرتا ہے لیکن روزہ نہیں رکھتا۔‘‘
باپ کو جلال میں دیکھ کر راجو نے معصومیت سے جواب دیا،سحری بھی نہ کروں اور افطاری بھی نہ کروں تو کیا کافر ہو کے مر جاؤں،
ایک زمانہ تھا جب گھر کے بڑے بچوں پر نظر رکھتے اگر کسی گھر میں راجو،پپو،یا گڈو فرض عبادات سے غفلت برتنے تو ان کے ساتھ سختی کی جاتی تقریباً ہر گھرانے میں روزہ ونماز کی پابندی لازمی ہوتی،رمضان کریم کی آمد سے قبل ہی گھروں،محلوں اور مساجد میں صفائی ستھرائی اور رنگ روغن کیا جاتا،ماہ صیام کا استقبال مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ کیا جاتا،مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوجاتا،بازاروں میں رمضان المبارک کے احترام میں سحری وافطار کے درمیان کھانے پینے کی اشیا کی فروخت پر پابندی ہوا کرتی روزہ خور کھانے پینے کے لیے اسپتالوں اور اسٹیشنوں کا رخ کیا کرتے،محلے کی قریبی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے والوں کے درمیان مقابلے کی سی کیفیت ہوتی‘ لوگ رحمتوں برکتوں اور رونقوں کے اس مہینے میں ساری ساری رات عبادات میں مشغول رہتے،رمضان کے آخری عشرے میں الوداع رمضان کی مناسبت سے پروگراموں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ بڑے زور و شور سے عید کی تیاریاں بھی کی جانے لگتیں۔
سائنسی ٹیکنالوجی کی اڑن بھرنے سے قبل بازاروں میں سب سے زیادہ رش عید کارڈ فروخت کرنے والوں کے اسٹالوں پر ہوا کرتا،ڈاک خانوں پر لگی لمبی قطاروں پر کھڑے لوگ اپنے پیاروں سے محبت کے اظہار کے لئے عید کارڈ پوسٹ کیا کرتے عید کارڈز پوسٹ کرنے والوں کے درمیان باقاعدہ مقابلے ہوتے۔
ادھر سے چاند تم دیکھو ادھر سے چاند ہم دیکھیں
نگاہیں ایسے ٹکرائیں ہماری عید ہو جائے
روایتی شاعری سے بھرے عید کارڈ میٹھی عید کا میٹھا تحفہ تصور کیے جاتے اور پھر دوسری طرف کے جواب کے انتظار میں آنکھیں بڑی شدت سے ڈاکیے کی راہیں تکتی رہتیں،جوابی عید کارڈ لانے پر ڈاکیا ایسے عیدی وصول کرتا گویا جیسے عید کارڈ بھیجنے والے کے گھر سے لایا ہو۔
آنے والے جوابی عید کارڈ پر لکھے اشعار
عید آئی ہے اس پہ ناز کرنا
عید مناتے وقت ہمیں بھی یاد کرنا
*
عید کے دن سویاں اتنی نہ کھانا کہ پیٹ پھول جائے
عید اتنی نہ منانا کہ دوست بھول جائے
کے ساتھ میری اور میرے گھر والوں کی جانب سے آپ کو دلی عید مبارک باد جیسی تحریر پڑھ کر دل کھل اٹھتا،ہم عید کارڈز کا باقاعدہ ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے جب بھی دوستوں کی یاد آتی پرانے کارڈ نکال کر گھنٹوں پڑھتے رہتے،
اور پھرچاند رات کی ان حسین یادوں کو بھلا کون بھول سکتا ہے جب آخری روزہ کھولتے ہی چھت کی طرف دوڑیں لگ جاتیں ہردوسرا بچہ اس جوش میں کہ سب سے پہلے چاند کون دیکھے گا اور چاند پر جب پہلی نظر پڑتی تو ایسا محسوس ہوتا جیسے آسمان کی لوح پر چاندنی کے قلم سے ایک خوبصورت ترین سا پیغام لکھ دیا گیا ہو ،چاند نظر آتے ہی ہماری خوشی کی انتہا نہ رہتی محلے میں چہل پہل بڑھ جاتی ،کوئلے والی استری سے کپڑے پریس کرنا،گھر کی خواتین کا مہندی لگانا،امی کا شیر خورمے کے لیے میوے کاٹنا،بہنوں کا آخری وقت میں ڈوپٹوں پر گوٹا کناری لگانا،گھر کے مردوں کا رات گئے تک بار بار درزی کی دکان پر حاضری دینا،تیار سوٹ مل جانے پر خوشی خوشی الماری میں لٹکانا ہمارے بچپن کی وہ انمول یادیں ہیں جیسے کل کی سی بات ہو،
ہمارے گھر کی یہ روایت رہی کہ بچوں کو عیدی بعد نماز عید دی جاتی،اسی لیے دوران نماز ہی ہمارے ذہن میں نئے اور کرارے نوٹ آنے لگتے چونکہ عید کی صبح سے ہی گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت کاسلسلہ شروع ہو جاتا اس لیے ہم سارا دن حصول عیدی کے ایجنڈے پرگھر آے مہمانوں کا طواف کرنے لگتے،ملنے والی عیدی کوبٹوے میں رکھ کر سارا دن سیٹھ بنے گھومتے‘ گھر میں لذیز اور میٹھے پکوان بناے جانے کے باوجود بازاری چھولے،دہی بھلے،اور نقلی سوفٹ ڈرنکس پی پی کر اپنا گلہ خراب کرتے،خود ہی پیسے خرچ کرتے اور ہر مرتبہ بٹوے سے سارے پیسے نکال کرخود ہی دوبارہ گننے لگتے۔
گھر کی چھوٹی بچیاں گلے میں پرس ڈالے عینک لگائے کبھی اس گھر تو کبھی اس گھر آتی جاتیں،عید کے دوسرے دن ماموں کے گھر جانا ہوتا جہاں سے مزار قائد اور ساحل سمندر اور پھر رات گئے تک جھولوں کے مزے لیے جاتے،۔یوں عید کے تینوں دن رشتے داروں کا آپس میں ایک دوسرے سے ملنا جلنا رہتا۔
وقت کیا بدلا سب کچھ ہی بدل گیا اب نہ وہ تہوار رہے اور نہ وہ آپسی محبتیں سا ئنسی ترقی خاص طور پر شوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد خود نمائی کا ایسا کلچر پروان چڑھا جس نے ہماری برسوں کی روایات پر کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو بظاہر لوگوں کے نزدیک لیکن حقیقی طور پر تنہا کر ڈالا اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ موبائل فون پر چیٹنگ کرتے ایک ہی کمرے میں بیٹھے ایک ہی خاندان کے افراد قریب رہ کر بھی کتنی دور ہوتے ہیں ،اب تو گھر آنے والے مہمان بھی آتے ہی وائی فائی کوڈ پوچھنے کو ترجیح دیتے ہیں لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ایک طرف ہر شخص اپنی مصروفیات کے بوجھ تلے دب گیا ہے تو دوسری طرف بڑھتے معاشی اور سماجی مسائل کے باعث ہماری بھی عیدیں ویران ہوتی جار ہی ہیں۔اس کے علاؤہ عدم تحفظ افراتفری اور منافقت نے بھی ہماری عیدوں کو آلودہ کر دیا ہے، ہمارے زمانے میں عید نئے کپڑے نئی سینڈل اور عیدپر ملنے والے پیسوں سے بازاری کھانا کھانے کا نام ہوتا۔
آج کے بچے کے پاس ذاتی گاڑی ہاتھ میں مہنگا ترین موبائل جیب میں اچھی خاصی رقم ہوا کرتی ہے وہ آئے دن نئے سلے سلائے کپڑے خریدنے کا عادی ہے ہر دوسرے دن باہر کھانااس کا مزاج ہے،سال میں ایک جوڑا اور وہ بھی عید پر ملنے کی خوشی اور اس کے نتیجے میں جو کیفیت ہوتی ہے وہ اس سے محروم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عید ہو یا اور دوسرا کوئی تہوار آج کے بچے سارا دن ٹی وی دیکھ کر یا اپنے کمروں میں سو کر گزارتے ہیں ان کے لیے اس میں کوئی نئی اور خاص بات نہیں ہوتی ۔
یوں میٹھی عید بھی ان کے لیے پھیکی پھیکی ثابت ہوا کرتی ہے،اب نہ وہ زمانے رہے اور نہ وہ خلوص سب کچھ تیز رفتار زندگی میں کہیں گم ہو گیا
ماضی میں اپنے پیاروں کے ساتھ شریک ہو کر جو خوشی محسوس ہوتی تھی وہ مفقود ہے انسان آج اس خلوص اور جذبہ محبت سے بھی محروم ہے جو عید کارڈ کی صورت ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا ہمارے پاس پہنچتا تھا، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی ان خوشگواراور محبت بھری روایت کو پھر سے زندگی بخشنے کی کوشش کی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ہمارے ماضی جیسی میٹھی عید کی میٹھی خوشیاں محسوس ہو سکیں۔