ورلڈ کپ فٹ بال۔۔۔ دلچسپ اور عجیب

480
* پہلا ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ یورا گوئے میں کھیلا گیا۔ کُل 13 ٹیموں نے حصہ لیا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل میزبان یوراگوئے اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلا گیا جو یورا گوئے نے جیت لیا ہے اس میچ کو 80 ہزار تماشائیوں نے دیکھا۔
* 1934 میں چیک کھلاڑی اولڈ رچ نیجیڈلی نے سب سے زیادہ 5 گول اسکور کیے۔
* 1950 میں برازیل میں منعقدہ ورلڈ کپ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا ٹورنامنٹ تھا۔ فائنل میں امریکی ٹیم نے برطانوی ٹیم کو 1-0 سے شکست دی۔ برطانوی میڈیا یہ سمجھا کہ خبر غلط ہے اور برطانوی اخبارات نے اپنی ٹیم کو 1-0 سے فاتح قرار دے دیا۔
* 1974 کے ورلڈ کپ میں ہیٹی کا دفاعی کھلاڑی ارنسٹ جین جوزف فٹ بال کی تاریخ کا پہلا کھلاڑی تھا جو ڈرگ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہا۔ پہلے کچھ لوگوں نے اس کی ٹھکائی کی اور پھر وہ رسوا ہو کر اپنے ملک واپس گیا۔
* 1932 کے ٹورنامنٹ میں جرمنی نے آسٹریا کو صفر۔1 سے شکست دی تو پہلی بار میچ فکسنگ کے الزامات عائد ہوئے۔
* 1986ء ورلڈ کپ میں ماراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف مشہور ’’ہینڈ آف گاڈ‘‘ گولر اسکور کیا۔ کوارٹر فائنل کے اس میچ میں ماراڈونا نے ہاتھوں سے پنج کرکے گول کیا اور ریفری نہ دیکھ سکا۔
* 1994 میں کولمبیا کے ڈیفنڈر آندرے اسکوبار نے امریکا کے خلاف میچ میں خود اپنی ہی ٹیم کے خلاف سیلف گول اسکور کر دیا۔
* 1998 کے ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں کی تعداد 24 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی اور پہلی بار گولڈ گول کا رول متعارف کرایا گیا یعنی ایکسٹرا ٹائم میں جو ٹیم پہلے گول کر لے گی اسی کو فاتح قرار دیا جائے گا۔
* 2002 میں پہلی بار ایشیا میں ورلڈ کپ فٹ بال کا انعقاد ہوا۔ میزبان ممالک تھے جاپان اور کوریا۔ برازیل کی ٹیم نے ریکارڈ پانچویں بار ٹورنامنٹ جیتا۔
* 2006ء کے ٹورنامنٹ میں پرتگال اور ہالینڈ کے درمیان کھیلے گئے بدترین میچ میں سنگین خلاف ورزیوں پرکھلاڑیوں کو 16 بار یلو کارڈ اور 4 بار ریڈ کارڈ دکھائے گئے۔

فیفا ورلڈ کپ چوری ہوگیا
فیفا ورلڈ کپ کی اوریجنل ٹرافی کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ ٹرافی دوسری عالمگیر جنگ کے زمانے میں اور اسٹرلنگ سلور سے تیار کی گئی تھی اور فیفا کے نائب صدر اوٹورینسو براسی نے اسے قابض جرمنی فوجیوں سے بچانے کے لیے جوتے کے ڈبے میں چھپا کر اپنے بیڈ کے نیچے رکھ دیا تھا۔ بیس برس بعد مارچ 1966ء میں انگلیڈ میں ورلڈ کپ کے انعقاد سے پہلے یہ ٹرافی چوری ہوگئی لیکن دو ہی ہفتے بعد اسے ایک سراغ رساں کتا‘ جس کا نام پکل تھا‘ کی مدد سے جھاڑیوں میں تلاش کرلیا گیا۔ 1970ء میں جب برازیل کی ٹیم تیسری بار ورلڈ کپ جیتی تو اسے مستقل طور پر برازیلین ٹیم کو دے دیا گیا۔ لیکن 1983ء میں یہ ٹرافی ایک بار پھر چوری ہوگئی اور پھر آج تک نہ ملی۔ ورلڈ کپ کی موجودہ گولڈ ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو ملتی ہے اور اگلے ٹورنامنٹ تک اس ٹیم کے پاس رہتی ہے۔