فلسطین میں قتل عام اور والم اسلام

373

عبدالغفار عزیز

(دوسرا اور آخری حصہ)
عالمِ اسلام کی صورتِ حال’
غور طلب امر یہ ہے کہ آخر اب کیا ایسی نئی بات ہوگئی کہ جو وعدے اور دعوے پہلے سراب ثابت ہوچکے ہیں، وہ اب حقیقت بن جائیں گے؟ مختصر جائزہ لیں تو اس ضمن میں صہیونی ریاست اور ٹرمپ حکومت کو سب سے بڑی کامیابی یہ ملی ہے کہ وہ عالمِ اسلام میں بڑی نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایسے کئی اہم ممالک کہ جن سے اہلِ فلسطین اور عالمِ اسلام کی امیدیں وابستہ ہوسکتی تھیں، اب (صہیونی و امریکی دعوے کے مطابق) ان کے ہم نوا بن چکے ہیں۔ کئی مسلمان ذمہ داران حکومت کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ صہیونی ریاست کے خفیہ دورے کرچکے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ افواہیں غلط اور محض صہیونی پروپیگنڈا ہو، لیکن سب کو دکھائی دینے والے کئی دیگر امور بھی بہت سنگین ہیں۔ اس وقت کئی مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ میں اسرائیل کی وکالت و دفاع کے لیے جاری ابلاغی مہمات عروج پر ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آزادی اقصیٰ کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی فلسطینی تحریکات کے خلاف انتہائی زہریلا پراپیگنڈا بھی خوب جاری ہے۔ اسرائیلی ذمہ داران مختلف مسلم ممالک کے خفیہ و علانیہ دورے کررہے ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی مختلف ثقافتی، سیاسی اور تجارتی اہم سرگرمیوں میں، کئی مسلم ممالک کے وفود اور ٹیمیں کھلم کھلا اور اپنے نام و پر چم اٹھاکر شریک ہونے لگے ہیں۔
ان سب امور سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ کئی مسلم ممالک اور مسلم عوام کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا گیا ہے۔ شام میں لاکھوں بے گناہوں کی شہادت اور پورے ملک کی تباہی، اور اسے عملاً پانچ ٹکڑیوں میں تقسیم کردینے کے بعد وہاں مزید قتل و غارت جاری ہے۔ مصر میں داروگیر اور بے گناہوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ پورا ملک ایک جیل خانے میں بدلا جاچکا اور معاشی لحاظ سے بدترین تباہ حالی کا شکار کردیا گیا ہے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں مصری شہری یا تو زیر زمین رہنے پر مجبور ہیں یا ملک چھوڑ چکے ہیں۔ یمن میں باغی حوثی قبائل کے ساتھ جاری جنگ ایک خوف ناک دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے۔ آئے دن سعودی عرب کے مختلف شہروں پر بھی میزائلوں سے حملے کیے جارہے ہیں۔ یمن کے کئی تاریخی علاقوں کو ملک سے کاٹ کر مختلف طاقتوں کی جانب سے ان پر قبضے کی کاوشیں ہورہی ہیں۔ عراق تباہ حال ہے اور لیبیا میں قتل و غارت سنگین تر ہے۔ چار عرب ممالک کی قطر سے قطع تعلقی اور حصار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات و دشنام طرازی اب عوام اور قبائل کی حد تک سرایت کر چکی ہے۔ جو ممالک اب تک جنگ و جدال اور خوں ریزی سے بچے ہوئے ہیں، وہاں بھی سیاسی اختلافات، مختلف لسانی، قومی اور علاقائی تعصبات کی آنچ تیزی سے بھڑکائی جارہی ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں اور عوام کو ان داخلی معرکوں سے اٹھ کر قومی وملّی امور پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ ملے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جو صہیونی ریاست اور اس کی سرپرست عالمی طاقتوں کے لیے مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح گاہے گاہے پاکستان میں یہ شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ ہمارا دشمن تو ہندستان ہے، اس سے مقابلے اور اپنی مشکلات کے حل اور عالمی حمایت میں اضافے کے لیے اسرائیل کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح عرب ممالک اور ایران کو ایک دوسرے کے خلاف مشتعل اور خوف زدہ کرتے ہوئے اسرائیل سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی بات کی جاتی ہے۔ خود صہیونی ریاست بھی مختلف ممالک اور ان کے حکمرانوں کو یہی خواب بیچ رہی ہے۔
اہلِ فلسطین کا عزم
اس گمبھیر اور تاریک صورتِ حال کے باوجود سرزمین اقصیٰ سے کئی حوصلہ افزا پیغامات آرہے ہیں۔ سب سے اہم پیغام تو یہی ہے کہ صہیونی افواج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ اور ایسی زہریلی گیسوں کے استعمال کے باوجود کہ جو جسم میں اترتے ہی اپنے ہدف کو ایک تڑپتی لاش میں بدل دیتی ہیں، فلسطینی نوجوان ہی نہیں خواتین اور بچے بھی مکمل سرفروشی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں بالخصوص اہل غزہ ایک بار پھر نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ دنیا کو تو شاید یہ یاد ہی نہیں رہا تھا کہ غزہ کے 20 لاکھ انسان گذشتہ 12 سال سے چاروں اطراف سے محصورایک بڑے قیدخانے میں بند ہیں۔ غزہ کی پٹی کو ایک ایسی جیل میں بدل دیا گیا ہے کہ جس میں اب تک سیکڑوں مریض تڑپ تڑپ کر جان دے چکے ہیں۔ انھیں علاج کے لیے برادر پڑوسی ملک مصر بھی آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ سامان خوردونوش، توانائی کا کوئی بنیادی وسیلہ (تیل، گیس، ایندھن)، ناگزیر تعمیراتی سامان، کسی بھی طرح کے ضروری سپیئر پارٹس سمیت زندگی کی کسی بھی بنیادی ضروریات غزہ کے اندر لے جانے کی تمام راہیں مکمل مسدود ہیں۔
اس خوف ناک صہیونی اور مصری حصار کے علاوہ خود فلسطینی اتھارٹی اور اس کے صدر محمود عباس کی جانب سے بھی غزہ کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ 2006ء میں حماس کی قائم ہونے والی حکومت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ وہ پورا کردیا گیا تو اپنے مقرر کردہ وزیراعظم عبداللہ کو وہاں نہیں بھیجا گیا۔ ایک روز اچانک ان کی آمد کا اعلان کیا گیا اور راستے ہی میں ان پر قاتلانہ حملے کا ڈراما رچاکر واپس بلالیا گیا۔ اس پورے عرصے میں کئی سال سے 20 لاکھ انسانوں پر مشتمل اس آبادی کے کسی سرکاری ملازم کو تنخواہ نہیں دی گئی۔ شرط یہ لگائی جارہی ہے کہ وہ حماس کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے غزہ کے اندر بغاوت کردیں۔ حماس سے بھی ان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ہتھیار بھی آپ لوگوں نے تیار یا فراہم کیے ہیں، وہ فوراً ہمارے حوالے کیے جائیں133 پتھروں اور غلیلوں سے مزاحمت شروع کرنے والوں نے اللہ کی توفیق سے اور سرفروشی کی نئی مثال قائم کرتے اور وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوّۃٍ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جو تھوڑی بہت قوت فراہم کی ہے، بجاے اس کے کہ اس میں اضافے کی فکر کی جاتی، اسے تباہ کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اس مطالبے اور صہیونی ریاست کے مطالبات میں آخر کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔
صہیونی دشمن کی کارروائیوں کا دائرہ صرف فلسطین تک ہی محدود نہیں رہا۔ حالیہ تحریک کے دوران انھوں نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک نوجوان فلسطینی پروفیسر فادی البطش کو نماز فجر کے لیے جاتے ہوئے شہید کردیا۔ موساد نے اس کی شہادت کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ فادی کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ فلسطینی اور تحریک حماس کا رکن تھا، ساتھ ہی ایک ہونہار و کامیاب سائنس دان بھی۔ اس کی کئی ایجادات عالمی سطح پر رجسٹرد کی جاچکی ہیں۔ موساد کا کہنا ہے کہ وہ اہلِ غزہ کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر بنانے میں معاونت کررہا تھا۔ اس سے پہلے اسی طرح تیونس کے ایک نوجوان محمدالزواوی کو اس کے گاؤں جاکر شہید کردیا گیا۔ اس کا گناہ بھی یہ بتایا گیا کہ وہ اہلِ غزہ کو ڈرون ٹکنالوجی فراہم کررہا تھا۔
صہیونی دشمنوں کی سفاکی اور اپنوں کی نادانی و مخالفت کے باوجود اہل غزہ کے پاے استقامت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ 30 مارچ سے شروع ہونے والے ’واپسی کے سفر‘ کا بنیادی مرکز بھی غزہ ہے۔ فلسطین پر قابض صہیونی افواج نے 40کلومیٹر لمبی آہنی باڑھ کھڑی کرتے ہوئے، اس کے ساتھ ٹینکوں اور جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رکھے ہیں۔ دوسری جانب نہتے فلسطینی عوام ہیں، جو دشمن کی فائرنگ اور زہریلی گیسوں سے بچنے کے لیے ٹائر جلا کر اور غلیلوں کے ذریعے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔ دو ماہ سے جاری اس تحریک کے دوران سیکڑوں ایمان افروز واقعات رونما رہورہے ہیں۔ شدید آنسو گیس سے بچنے کے لیے سات سال کے ایک بچے نے انوکھی تدبیر اختیار کی۔ اس نے ناک اور سرپر کپڑا لپیٹتے ہوئے ناک کے سامنے ایک پیاز باندھ لیا۔ کہیں سے سن رکھا تھا کہ پیاز سے زہریلی گیس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ لمبی ڈنٹھل والی سبز پیاز باندھ کر، یہودی فوجیوں کے عین سامنے جابیٹھنے والا یہ بچہ صحافیوں کی نگاہ میں بھی آگیا۔ انھوں نے بعد میں اس سے پوچھا: ’’آپ کو ڈر نہیں لگ رہا تھا؟‘‘ بچے کی آنکھوں میں ایک عجیب روشنی چمکی۔ بلاتوقف فوراً بولا: ’’میں نہیں وہ فوجی خوف زدہ تھے۔ میں کیوں ڈرتا میں تو اپنی سرزمین پر کھڑا تھا۔ وہ غاصب ہیں اس لیے ڈر بھی رہے تھے‘‘۔

عالمی ردعمل اور مستقبل
ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سفارتی محاذ پر بھی اہل فلسطین کی مدد کی ہے۔ گذشتہ دسمبر میں ٹرمپ سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تو اقوام متحدہ میں ۸۲۱ ممالک نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والوں میں ہندستان جیسے ان ممالک کو بھی شریک ہونا پڑا جو صہیونی ریاست کے ہرظلم اور ہرفیصلے میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ صرف ۹ ممالک نے اعلان ٹرمپ کی حمایت کی،جو تقریباً سب کے سب غیر معروف ممالک ہیں۔ امریکا نے اس عالمی مخالفت کے باوجود بھی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا، تو اس وقت بھی تقریباً تمام بڑی اور اہم عالمی طاقتوں نے اس تقریب میں شرکت اور تائید کرنے سے انکار کردیا۔ ریاستی سطح کے علاوہ دنیا بھر کے انصاف پسند عوام نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی۔ برطانیہ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک معمر سفید فام برطانوی خاتون اپنی بچی کے ساتھ کتبہ اْٹھائے کھڑی تھی: ’’مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ دینے کے لیے مسلمان ہونا نہیں، انسان ہونا ضروری ہے‘‘۔
خوش قسمتی سے اس وقت مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی سربراہی ترکی کے پاس ہے۔ صدر طیب ایردوان نے ٹرمپ کے اعلان دسمبر اور اب مئی میں اس پر عملی اقدام کے فوراً بعد مسلم ممالک کا سربراہی اجلاس بلایا۔ پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں ہونے والے دو سربراہی اجلاسوں نے بھی بیک آواز ٹرمپ پالیسی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ مسلم ممالک نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے کے لیے وہاں حفاظتی افواج بھیجے۔ اختتامی اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ: ’’فلسطین پر قابض صہیونی افواج ان تمام وحشیانہ جرائم کا ارتکاب امریکی حکومت کی پشت پناہی سے کررہی ہے۔ امریکا نے اسرائیل کو سیکورٹی کونسل میں بھی جواب دہی سے بچایا اور اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کی غنڈا گردی کی حوصلہ افزائی کی‘‘۔
یہ درست ہے کہ اس اہم کانفرنس میں مذمت اور غم و غصّے کے اظہار کے علاوہ امریکی حکومت سمیت سب شریک جرم طاقتوں کے خلاف کوئی جرآت مندانہ اقدام کرنے کی ضرورت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ صرف ترکی یا مزید ایک آدھ ملک نے نہیں اجتماعی طور پر ہی کیا جانا تھا۔ مسلم حکومتوں کے رویے کااندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ قبلہ? اول جیسی مقدس امانت خطرے میں ہے اور اس کے لیے بلائی گئی یک نکاتی کانفرنس میں ۷۵میں سے ۰۴ ملک شریک ہوئے، جن میں سے صرف ۳۱ سربراہان تھے، جب کہ تین نائب سربراہان تھے۔ ۲۱ممالک کی نمایندگی ان کے وزراے خارجہ نے کی اور گیارہ کی مزید کم درجے کے نمایندوں نے۔ یہی نہیں امریکا اور اسرائیل کے ان اقدامات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے والے ملک ترکی کے بارے میں منفی پروپیگنڈا مہم شروع کردی گئی۔ کہا گیا کہ ترکی منافقت کررہا ہے: ایک طرف یہ بیان بازی، کانفرنسیں اور بڑے عوامی پروگرام کررہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے ہے۔ اسے تیل اور سامانِ تجارت کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ اعتراض یقیناًحقیقت پر مبنی ہے۔ ترکی میں مصطفےٰ کمال پاشا کے وارثوں نے باقی سب مسلم ممالک سے پہلے ۹۴۹۱ء4 ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرلیاتھا۔ تب سے اب تک دونوں ممالک کے مابین تجارت و تعاون کے کئی راستے کھلے ہیں۔ لیکن یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ طیب ایردوان حکومت کے دوران یہ دو طرفہ تعلقات اپنی بدترین صورت تک جاپہنچے۔ ۰۱۰۲ء4 میں ترک سفینے ’مرمرہ‘ کے ذریعے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کے دوران کئی ترک شہری شہید کردیے گئے۔ تین سال تک تعلقات منقطع رہے۔ بالآخر اسرائیل کو معذرت کرتے ہوئے تمام شہدا کی کامل دیت اور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ حالیہ امریکی اقدامات اور اسرائیلی افواج کے ذریعے قتل عام کے بعد بھی ترکی نے اسرائیلی سفیر کو تمام تر سفارتی حقوق سے محروم کرکے ذلت کے ساتھ ملک بدر کردیا۔ یقیناًترکی کو اس سے بھی زیادہ اقدامات کرنا چاہییں، لیکن آپ ذرا کئی دیگر مسلم حکمرانوں سے موازنہ کرکے دیکھیے۔ ایک طرف ترکی ہے، جس کی حکومت تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات کے باوجود، اسرائیل سے دْوری اور لمحہ بہ لمحہ تعلقات ختم کرنے کی جانب آگے بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف کئی مسلم حکمران ہیں کہ صرف لیلاے اقتدار ملنے کے لالچ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب دوڑے چلے جارہے ہیں۔
اْمت مسلمہ کے ہرفرد کو یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنا ہوگی کہ فلسطین اور عالمِ اسلام میں وقوع پذیر حالیہ تمام تبدیلیوں کا اصل ہدف وسیع تر اسرائیلی ریاست کا قیام ہے۔ جس کی سرحدیں دریاے فرات سے لے کر دریاے نیل تک اور جنوب میں (خاکم بدہن) مدینہ منورہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے جامِ کوثر حاصل کرنے کی تمنا حقیقی اور سچی ہے تو یہ سچائی عمل سے ثابت کرنا ہوگی۔ ایسے حکمران منتخب کرنا ہوں گے اور ان حکمرانوں کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ جو قبلہ? اوّل کے بارے میں ہرسودے بازی اور منصوبے کو مسترد کر دیں۔ ربِ ذوالجلال کا اعلان، دعوتِ عمل دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کر رہا ہے:
اِن? تَن?صْرْوا اللہَ ?َن?صْر??ْم? وَ?ْثَبِّت? اَق?دَامَ?ْم?? (محمد۷۴:۷) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم مضبوط جما دے گا۔