عظیم ھیرو

471
یوں تو ورلڈ کپ فٹ بال کی تاریخ میں مختلف ٹیموں کی جانب سے بڑے بڑے کھلاڑی سامنے آئے ہیں جن میں موجودہ کھلاڑی میسی‘ رونالڈو اور صلاح کے نام بھی شامل ہیں لیکن اگر ماضی کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو برازیل کے پیلے‘ ارجنٹائن کے ڈیاگومارا ڈونا اور انگلینڈ کے ڈیوڈ بیکھم کے نام سرفہرست ہیں۔
پیلے: برازیل کے عظیم ترین فٹ بالر کو فٹ بال کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے۔ 1958ء میں جب پہلی بار پیلے نے ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی تو اس وقت اس کی عمر صرف 17 برس تھی۔ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں پیلے نے غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ اس کے 6 گول کی مدد سے برازیل کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا۔ 1962 اور 1966ء کے ورلڈ کپ میں بدقسمتی سے وہ فٹنس کے مسائل کا شکار رہا لیکن 1970ء کے ورلڈ کپ میں اس نے برازیل کے ورلڈ کپ کا 100واں گول اسکور کیا اور اپنی ٹیم کو تیسرا عالمی کپ جتوا دیا۔
ڈیاگومارا ڈونا: فٹ بال کی کوئی کہانی مارا ڈونا کے تذکرے کے بغیر مکمل نہی ہوسکتی۔ 1986 کے ورلڈ کپ میں ماراڈونا نے ارجنٹائن کی طرف سے 6 گول اسکور کیے اور اپنے غیر معمولی اور شاندار کھیل سے پوری دنیا کو اپنا دیوانہ بنا لیا صرف ایک ہی ٹورنامنٹ سے وہ دنیا بھر میں کھیل کی مقبول ترین شخصیت بن کر ابھرا۔ اس کے جارحانہ کھیل کی بدولت ارجنٹائن نے 1986 کا ورلڈ کپ جیتا۔ 1990 کے عالمی کپ کے فائنل میں شکست کے بعد 1994 کے ورلڈ کپ میں دنیا بھر میں اس کے شائقین کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب وہ ڈرگ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہا اور اسے ٹورنامنٹ چھوڑ کر جانا پڑا۔ بعد میں 2010 میں وہ ارجنٹائن کا کوچ بن کر واپس آیا۔
ڈیوڈ بیکھم: 1998 میں ارجنٹائنج کے خلاف میچ ریڈ کارڈ کے بعد 2002 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کا کپتان بن کر آیا اور پھر دنیا بھر میں فٹ بال کے پرستاروں کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ دنیا بھر کے دور دراز کے ممالک میں بھی نوجوان اس کے ہیئر اسٹائل کو اپنائے ہوئے دکھائی دیے۔ 2006 میں ریٹائرمنٹ تک وہ انگلینڈ کا کپتان اور دنیا کا مقبول ترین فٹ بالر رہا 2010 میں وہ قومی ٹیم کا کوچ بنا لوگ آج تک اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔
جارج بیسٹ: جارج بیسٹ کا شمار فٹ بال کی تاریخ کے چند عظیم ترین فٹ بالرز میں ہوتا ہے بعض ماہرین کا خیال ہے دنیا میں اس سے بڑا فٹ بالر کبھی پیدا نہیں ہوا لیکن اس عظیم ترین کھلاڑی کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ کبھی ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ٹیم ناردرن آئرلینڈ کبھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔