پولیس میں دھڑنے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ بنا ،راؤ انوار

48

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سابق پولیس افسر راؤ انوار نے الزام عاید کیا ہے کہ پولیس نے ذاتی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا۔سابق ایس ایس پی ملیر را ؤانوار پھٹ پڑے اورپیٹی بندبھائیوں پر خود کو پھنسانے کا الزام عاید کر دیا ۔ کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق ایس ایس پی ملیر اور قتل میں نامزد ملزم راؤ انوار سمیت10ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نقیب اللہ کے والد کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور کی غیر حاضری کی وجہ سے سماعت4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راؤ انوار نے کہا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ اور اختلافات کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں شواہد موجود نہیں ہیں، پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی۔را ؤانوار کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا، ایسا فون نمبر ڈالا گیا ہے جو میرے استعمال میں ہی نہیں،21 مارچ کو میں عدالت عظمیٰ میں تھا، جبکہ جے آئی ٹی میں جو فون نمبر ڈالا گیا اس کی لوکیشن کراچی تھی، میرے گھر کو سب جیل قرار دینا بے جا عنایت نہیں ہے کیونکہ مجھ پر2 خود کش حملے ہو چکے ہیں۔را ؤانوار نے مزید کہا کہ ایک شخص نے میرے سر کی قیمت50 لاکھ روپے مقرر کی جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، میرے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کو چیف جسٹس نے گرفتار کرایا، مجھے ہر تنظیم کے دہشت گرد نے دھمکی دی ہے، مجھے را اور دیگر کالعدم تنظیموں سے بھی خطرہ ہے، مجھے تھریٹ لیٹر وفاق، صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ سے بھی موصول ہوئے، مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے، میں اس مقدمے میں بری ہوجاؤں گا۔13 جنوری 2018 ء کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک پولیس مقابلے میں 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کییگئے لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد عدالت عظمیٰ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ائر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ