عدالت عظمیٰ ‘وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب 

43

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے کے ایم سی کی جانب سے دائر درخواست پر وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کر لیا ۔ جمعرات کو جسٹس مشیر عالم،جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بنچ نے کے ایم سی کی جانب سے دائر درخواست کی عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں سماعت کی ،سماعت کے موقع پر کے ایم سی کے وکیل سمیر غضنفر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ای ایس ایچ ایس نالے کی حدود بندی کے تنازعے کے باعث صفائی نہیں ہو رہی ہے اور مون سون کا سیزن آنے والا ہے, صورتحال خراب ہو سکتی ہے ،اگر نالے کی صفائی نہ ہوئی تو پی ای ایس ایچ ایس کاڈوبنے کا خطرہ ہے, دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گزشتہ بارشیں بھول گئے جب پی ای ایس ایچ ایس سوسائٹی میں کشتیاں چلائی گئیں،اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کر رہے اور کیا اس شہر کا کوئی ماسٹر پلان نہیں جبکہ یہ شہر دارالخلافہ رہا، وفاقی حکومت کے پاس ماسٹر پلان ہوگا ، کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ای ایس ایچ ایس سوسائٹی نالے کی صفائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور سوسائٹی نے ایچ مارکیٹ نالے کی اراضی پر غیر قانونی عمارت بنا دی ہے ۔ سماعت کے موقع پر ایس بی سی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے پاس کراچی کا ماسٹر پلان نہیں ہے بعد ازاں عدالت نے وفاقی ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ