پیپلزپارٹی نے ’’بھٹو‘‘ کا نام عملی سیاست سے باہر نکال دیا

62

کراچی (آن لائن) ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ کا نعرہ لگانے والی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھٹوکے نام کو مکمل طور پر انتخابی سیاست سے باہر نکال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی 51 سالہ تاریخ میں پہلی بار بھٹو فیملی سے کوئی بھی فرد الیکشن نہیں لڑ رہا اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے بھٹو فیملی کے کسی فرد کو ٹکٹ دیا ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی قائم کردہ پیپلز پارٹی سے بھٹو خاندان کو ہی آؤٹ کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھٹو فیملی اس ملک کی حکمران فیملی رہی ہے تاہم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی مکمل طور پر حاکم علی زرداری کی فیملی کو منتقل ہوگئی اور الیکشن 2018ء میں حاکم علی زرداری کے 6 افراد کو پاکستان پیپلزپارٹی نے ٹکٹ جاری کیے ہیں تاہم بھٹو کے نام پر ووٹ لینے والی پارٹی نے بھٹو فیملی کے کسی شخص کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ بھٹو فیملی کے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی بھٹو کا نعرہ محض سیاسی نعرہ ہی رہ گیا ہے اور عملی طور پر پیپلز پارٹی بھٹو فیملی کو سیاست سے باہر کرچکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ