کالا باغ ڈیم ۔۔۔پاکستان کی آبی حیات یا موت 

99

ارشد ملک
صوبہ بلوچستان کے اعتراضات: صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ سندھ کی طرح صوبہ بلوچستان کو سادہ عوام کو صحیح حقائق کا معلوم ہی نہیں ہے۔یہ بلوچستان کے وُہ قوم پرست رہنما ہیں جوکہ پاکستان سے علیحدگی کی تحریکیں چلارہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کالا باغ سے کوئی نقصان نہیں یہ نہ ہی ہمارے کوئی خدشات ہیں،بس ہم تو یہ کہتے ہیں کہ سندھ جیسے چھوٹے صوبے کو خدشات ہیں تو ہم علامتی طور پر اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔قارئین کو یہ بتاتے چلیں کہ کالا باغ ڈیم سے صوبہ بلوچستان کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوگابلکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے بلوچستان میں بننے والی کچی کنال کو نہ صرف اضافی پانی ملے گابلکہ بلوچستان کا تقریبا 7 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہوگا۔
کالا باغ ڈیم 1993ء میں آپریشنل ہوجانا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے25سال گزرنے کے باوجود مکمل ہونا تو دور کام بھی شروع نہ ہوسکا۔کالاباغ ڈیم بننے کے بعد پاکستان کا50 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہونا تھا۔ایک اندازے کے مطابق نہری زمین کی سالانہ پیدوار تقریباً 3 لاکھ روپے بنتی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ اب تک پاکستان تقریبا 375ارب ڈالر کا نقصان کرچکاہے۔اسی طرح صنعتی پیدوار کی لاگت کا تعین دو چیزوں سے لگایا جاتا ہے،پہلی لیبراور دوسری بجلی۔پاکستان میں لیبر سستا ہے مگر بجلی یا تو ناپید ہے یا اتنی مہنگی ہے کہ اس بجلی سے بننے والی اشیاء کی قیمت دوگنی ہوجاتی ہے۔اسی وجہ سے پاکستانی اشیاء عالمی منڈیوں دوسرے مُلکوں کی نسبت مہنگی ہونے کی وجہ سے مارکیٹ کا مقابلہ نہیں کرپاتیں،بلکہ اب تو پاکستان کے اندر ہی دوسرے ممالک کی نہ صرف اشیا بلکہ سبزی اور پھل بھی کھلے عام فروخت ہورہے ہیں۔جو کہ ہم سب کے لیے لمحہ فکر بھی ہے کہ جاگو اور دُرست فیصلہ کروکہ کالا باغ ڈیم پاکستان کی آبی حیات ہے یا موت۔
اللہ پاک سورۃ رحمن میں فرماتے ہیں کہ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔درحقیقت کالا باغ ڈیم خداوندتعالیٰ کی اس مُلک پاکستان کے لیے ایک نعمت ہے اور جو قومیں اللہ کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتی تو اللہ پاک اُن سے وُہ نعمتیں چھین لیا کرتے ہیں۔ الیکشن قریب ہیں اور بعض نام نہاد سیاست داں، قوم پرست اورسول سوسائیٹیز کے رہنما الیکشن سے پہلے ایک بریانی کی پلیٹ ، ایک قیمے کے پراٹھے کے بدلے میں ہمارے ووٹ کا سودہ کریں گے اور ہمیں ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی بے وقوف بنائیں گے اور پھر ہمیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، پانی کی قلت کا سامنا کرنے کے لیے بے یارو مدد گار چھوڑدیا جائے گا۔ اس لیے پاکستانی عوام سے درخواست ہے کہ میری سادہ اور پیاری پاکستانی عوام اب آپ کے جاگنے کا وقت ہے آپ ان نام نہاد رہنماؤں اور پالیسی میکرز کی باتوں میں نہ آئیں ۔یہ وُہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے ماضی میں ہمیں لسانیت کے کام دیئے ،فرقہ وارانہ فسادات دیئے،خوف کے مارے عزائم دیئے، اُلٹے سیدھے نعرے دیے، قلم کے بجائے ہتھیار دیے، خون میں لت پت جوان دیئے، پھولوں کے بغیر ہار دیئے، بجلی کے بغیر تار دیئے، گندگی کے ڈھیر وں ڈھیر دیئے، سیلابوں کے تحائف دیئے، بن پانی کے نلکے دیئے، خشک سالی سے مردہ بچے دیئے، کچرے کے انبار دیئے، ٹوٹے پھوٹے روڈ دیئے، گھٹیاساہوکار دیئے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے واپڈاکے سابق چیئرمین انجینئر شمس الملک نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم سے کسی صوبے کوتو دور کی بات پاکستان کے کسی ایک علاقے کو بھی ڈوبنے کا خطرہ نہیں ہے۔انجینئر شمس الملک نے یہ بھی کہاتھا کہ ہمیں دو موسم میں پانی کا مسئلہ ہے ۔پہلے موسم میں پانی زیادتی اور جمع کرنے کے لیے ڈیموں کے نہ ہونے سے پانی وافر مقدار میں سیلاب کے ذریعے تباہی پھیلاتا ہے ۔پھر یہ ہی پانی تباہی پھیلاکر وافر مقدار میں سمندر میں چلا جاتا ہے تو مُلک میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔اس لئے اگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہوجائے تو پہلے موسم میں ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کرلیا جائے اور دوسرے موسم میں پانی کی کمی ہونے پر ڈیم میں جمع شدہ پانی کو استعمال میں لایا جائے ۔کالا باغ ڈیم سے سستی بجلی بھی بن جائے گی اور مُلک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے اور صنعتی پہیہ بھی تیزی سے گھومنے لگے گا۔اِسی طرح کالا باغ ڈیم بننے سے پاکستان کا تقریبا 50لاکھ ایکڑ رقبہ نہ صرف سیراب ہوگا بلکہ مُلک کی زراعت کی پیداوار میں ناقابل یقین اضافہ بھی ہوگا۔
خدارا! کالا باغ ڈیم ہمار ا ہے، ہم سب کا ہے، پورے پاکستان کا ہے،اس پر سیاست کرنا درست عمل نہیں ہے ۔دراصل کالا باغ ڈیم ہی پاکستان کی آبی حیات ہے ۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اللہ پاک کی جانب سے دی گئی اس نعمت سے من حیث القوم کس طرح سے فائدہ اُٹھائیں یا اپنی آنے والی نسلوں کو پیاسہ چھوڑدیں۔یقیناًہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کالا باغ ڈیم کو آبی موت بننے سے روکیں اور کالا باغ ڈیم کو پاکستان کی آبی حیات بنائیں ۔تب ہی ملک خوشیوں کا گہوارہ بنے گا، روشنیوں کا منارہ بنے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ