قا ل اللہ تعالیٰ۔۔۔و۔۔۔ قال رسول اللہ ﷺ

81

اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مْردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ مشیت الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں، مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے پس تم اْنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں ۔ (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اْن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اْن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں۔ (سورۃ الانعام: 111تا113)۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبیؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینک لے تو اسے ’’الحمدُللہ‘‘ کہنا چاہیے اور اس کے بھائی یا ساتھی کو اس کے لیے ’’یر حمک للہ‘‘ کہنا چاہیے اور جب وہ اس کے لیے ’’یر حمک للہ‘‘ کہے تو اس چھینک لینے والے کو ’’یھدیکم اللہ و یصلح بالکم‘‘ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے) کہنا چاہیے۔ (بخاری۔ ریاض الصالحین)۔۔۔سیدنا عمرو بن میمون اودیؓ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اپنے بیٹوں کو یہ دعا ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے، اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ وہ دعا یہ ہے: اَللّٰھْمَّ اِنِّی اَعْوذْبِکَ مِنَ الجْبنِ وَاَعْوذْبِکَ مِن فِتنَۃِ الدّْنیَا وَاَعْوذْبِکَ مِن عَذَابِ النَّارِ ’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ (بخاری)۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ