اسرائیلی مظالم کیخلاف جنرل اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور 

64

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ کی سرحد پر اسرائیل مخالف احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی مذمت کی قرارداد منظور کر لی۔ جنرل اسمبلی نے اس امریکی الزام کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پُرتشدد صورت حال کی ذمے دار حماس ہے۔ بدھ کے روز منظور کی گئی قرارداد میں فلسطینیوں کے احتجاج کو دبانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے بے دریغ قوت کے استعمال کو غیر ضروری اور نامناسب قرار دیا گیا۔ فلسطینیوں کو تحفظ دینے سے متعلق اس قرار داد کو سلامتی کونسل میں امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔ جنرل اسمبلی میں یہ قرارداد فلسطین، عرب لیگ کے موجودہ سربراہ الجزائر اور اسلامی ممالک کی نمایندہ تنظیم او آئی سی کے موجودہ صدر ملک ترکی نے پیش کی تھی، جسے دیگر کئی اسلامی ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔ بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں قرارداد کے حق میں 120 اور مخالفت میں صرف 8 ووٹ
پڑے، جب کہ 45 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کی مخالفت کرنے والوں میں امریکا اور اسرائیل کے علاوہ آسٹریلیا، مارشل آئی لینڈ، میکرونیشیا، ناؤرو، ٹوگو اور سولومن آئی لینڈ شامل تھے۔ بیشتر یورپی ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ جنرل اسمبلی نے قرارداد کی منظوری سے قبل امریکا کی جانب سے قرارداد کے متن میں حماس کا نام لے کر اس کی مذمت کرنے کی ترمیم بھی مسترد کردی۔ قرارداد میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بے تحاشا، بے دریغ اور بلاامتیاز استعمال پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک نے جنرل اسمبلی سے قبل یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی تھی، جہاں کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا، لیکن امریکا نے مستقل ارکان کو حاصل اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یہ قرارداد ویٹو کردی تھی، جس کے بعد اس کے تجویز کنندگان نے اسے جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ چند برسوں کے دوران جنرل اسمبلی فلسطین کی حمایت میں کئی ایسی قراردادیں منظور کرچکی ہے، جو امریکا کی مخالفت کے باعث سلامتی کونسل سے منظور نہیں ہوسکی تھیں۔ بدھ کے روز قرارداد پر رائے شماری سے قبل اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے اسرائیل کی مذمت پر جنرل اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نکی ہیلی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی آج اپنا قیمتی وقت غزہ کی صورتِ حال پر صرف کر رہی ہے، جو ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن یہ مسئلہ نکاراگوا، ایران، یمن، برما اور ایسے ہی کئی دیگر مقامات پر جاری تنازعات سے کیوں اور کتنا مختلف ہے۔
قرارداد منظور

Print Friendly, PDF & Email
حصہ