مقدونیا: ملک کا نام تبدیل کرنے پر حزب اختلاف سراپا احتجاج

40

اسکوپے (انٹرنیشنل ڈیسک) مقدونیا کے صدر ایوانوف نے یونان کے ساتھ ملک کے نام سے متعلق طے پانے والے معاہدے پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے اس معاہدے کو نقصان دہ قرار دیا ہے۔ مقدونیا اور یونان کے درمیان لفظ ’مقدونیہ‘ پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یونان کے شمالی صوبے کا نام مقدونیا ہے، جب کہ سابقہ یوگوسلاویہ سے آزاد ہونے والی ریاست مقدونیا بھی یہی لفظ بہ طور شناخت استعمال کرتی ہے۔ اسی تناظر میں یونان نے مقدونیا کی یورپی یونین میں شمولیت کو روک رکھا ہے۔ ایوانوف نے اس معاہدے پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نام کے حوالے سے معاہدہ وزیراعظم زوران
زائف اور وزیرخارجہ نکولا دیمیتروف کی ذاتی ڈیل ہے۔ مقدونیا کے صدر کا مزید کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مجھے قبول نہیں ہے اور میں اسے قانونی شکل دینے کی اجازت نہیں دوں گا۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں ایوانوف نے کہا کہ اس معاہدے میں یونان کو وہ سب کچھ دے دیا گیا ہے، جو وہ مانگ رہا تھا جب کہ اس کے عوض مقدونیا کو کچھ نہیں ملا۔ میں یونان کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا۔ صدر کے خطاب کے بعد تقریباً 2 ہزار افراد نے اس معاہدے کے خلاف دارالحکومت اسکوپے میں مظاہرہ بھی کیا۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے جاری رکھیں گے۔ اسی تناظر میں پارلیمان کی عمارت پر ایک فائر بم بھی پھینکا گیا، جو کسی نقصان کا باعث نہیں بنا۔ اس کے علاوہ پتھروں اور بوتلوں کے ذریعے بھی پارلیمان کی عمارت کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق علاقے میں کشیدگی کے تناظر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب یونانی اپوزیشن نے بھی اس معاہدے پر شدید تنقید کی ہے۔ یونانی اپوزیشن پارٹی نیو ڈیموکریسی کے سربراہ کیریاکوس نے اس معاہدے کو قومی شکست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایتھنز نے اس معاہدے میں مقدونیا کی زبان اور نسل قبول کی۔ اس مناسبت سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اپوزیشن سیاسی جماعت نے پارلیمان میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی ہے۔ اس قرارداد پر رائے شماری آج ہو گی۔ یونانی پارلیمان میں حکمران جماعت کو 300 نشستوں والے ایوان میں 154 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس معاہدے پر حکومت کے اتحادی کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے قبل مقدونیا کے وزیراعظم زائیف اور یونانی وزیراعظم اسپراس نے اعلان کیا تھا کہ بلقان کی اس چھوٹی سی ریاست کے نام کے حوالے سے گزشتہ 27 برس سے جاری تنازع کا حل نکال لیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مقدونیا کا نیا نام ریپبلک آف نادرن مقدونیا طے کیا گیا تھا۔ اسپراس کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے یونانی صوبے مقدونیا اور جمہوریہ مقدونیا کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔
مقدونیا ؍ احتجاج

Print Friendly, PDF & Email
حصہ