قطب جنوبی کی برف پگھلنے کی رفتار تین گنا بڑھ گئی‘ ماہرین

60

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) ماہرین کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا کی برف کے پانی بننے سے سمندر کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ 1992ء کے بعد اب سمندری سطح میں 7 ملی میٹر سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے یہ تہقیق 24 مختلف فضائی سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر مکمل کی ہے۔ ماہرین کی رپورٹ گزشتہ روز سائنسی تحقیق کے معتبر جریدے ’نیچر‘ میں شائع کی گئی ہے۔ اس انٹرنیشنل ٹیم میں 84 سائنسدان شامل تھے، جن کا تعلق 44 مختلف ماحولیاتی تبدیلیوں
کی تنظیموں سے تھا۔ محققین کی ٹیم کے سربراہ اور برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو شیپرڈ کا کہنا ہے کہ پہلے سے اندازہ لگایا جا چکا ہے کہ زمین کی ماحولیاتی تبدیلیاں یقینی طور پر قطبین کی برفانی چادر کو کمزور کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ شیپرڈ کے مطابق سمندر کی سطح کا بلند ہونا مختلف ممالک کی حکومتوں کے لیے باعث تشویش ہو سکتا ہے کیوں کہ ساحلی پٹی پر موجود آبادیوں کو اب شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ محققین کے مطابق 1992 کے بعد بحر قطب جنوبی کی پگھل جانے والے برف کا حجم 3 ٹریلن ٹن کے قریب ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ 5 برس کے دوران اس وسیع برفانی علاقے کی برف پگھلنے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں 3 گنا سے زائد ہو گئی ہے۔ اس برف کے پگھلنے سے سمندری سطح مجموعی طور پر 7.6 ملی میٹر بلند ہو گئی ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق براعظم انٹارکٹکا 2012ء تک سالانہ بنیاد پر 76 ارب ٹن برف سے محروم ہو رہا تھا۔ اس برف کے مائع بننے سے اوسطاً سالانہ بنیاد پر 0.2 ملی میٹر سمندر کی سطح بلند ہو رہی تھی لیکن گزشتہ 6 برس میں مجموعی صورت حال کلی طور پر تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ 2012ء کے بعد سے اس برفانی براعظم میں برف پگھلنے کی رفتار میں 3 گنا اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر پگھلنے والی برف کا حجم 219 ارب ٹن ہو گیا ہے۔ اتنی کثیر مقدار میں پگھلنے والی برف سے سمندری سطح 0.6 فیصد سالانہ بنیاد پر بلند ہو چکی ہے۔
قطب جنوبی ؍ برف

Print Friendly, PDF & Email
حصہ