قاتل لڑکے کی جرمنی حوالگی پر عراقی حکومت کردستان انتظامیہ پر برہم

79

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) بغداد حکومت نے ایک جرمن لڑکی کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں کردستان انتظامیہ کی جانب سے عراقی کرد باشندے کی جرمنی حوالگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم جرمن استغاثہ کے مطابق اس عمل میں
قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔ عراقی حکومت نے جرمنی کی وفاقی پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جرمن لڑکی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث عراقی کرد علی کو جرمنی لے جانا قانونی نہیں تھا۔ بغداد حکومت نے اس حوالے سے برلن اور نیم خود مختار عراقی علاقے کردستان کی حکومتوں سے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ ماہ قبل عراقی لڑکے نے مبینہ طور پر ویزباڈن میں بطور مہاجر اپنے قیام کے دوران ایک 14 سالہ لڑکی کو ہلاک کر دیا تھا۔ بعد ازاں 20 سالہ ملزم اپنی خاندان کے ساتھ واپس عراق فرار ہو گیا تھا تاہم جرمنی کی طرف سے اس کا بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کیے جانے کے بعد کرد انتظامیہ نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ عراقی میڈیا کے مطابق علی نامی ملزم نے دوران تفتیش اقبال جرم بھی کیا تھا اور اب اسے جرمنی کے حوالے کیا جا چکا ہے، جہاں اس کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
عراقی حکومت برہم

Print Friendly, PDF & Email
حصہ