شمالی کوریا سے تعلقات امریکا ایشیائی حلیفوں کو وضاحت دینے پر مجبور 

107
سیؤل: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں
سیؤل: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں

سیؤل (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ترک کرنے تک شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کو نہیں اٹھایا جائے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے شمالی کوریائی میڈیا میں نشر ہونے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ کم جونگ اُن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اتفاق کیا ہے کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام مرحلہ وار ختم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ انتہائی واضح ہیں کہ شمالی کوریا اپنی جوہری سرگرمیاں کس طرح ختم کرے گا اور اس پر عائد پابندیاں کس طرح ہٹائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا، جس کے بعد شمالی کوریائی پر عائد پابندیاں ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔ جنوبی کوریائی دارالحکومت سیؤل میں اپنے جاپانی اور جنوبی کوریائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ شمالی کوریا اور امریکا کا سربراہ اجلاس ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔اس موقع پر جاپان کے وزیر خارجہ تارو کونو نے کہا کہ وزیر اعظم شنزو آبے شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔ کونو نے بتایا کہ اس اجلاس میں خاص طور پر اغوا کے واقعات سے متعلق بات چیت کو اہمیت حاصل رہے گی۔ جاپان کی جانب سے شمالی کوریا پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے 17 شہریوں کو 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے 5 زندہ واپس لوٹ آئے تھے۔واضح رہے کہ شمالی کوریائی میڈیا کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے عمل کے دوران امریکا آہستہ آہستہ اس پر عائد پابندیاں ختم کرے گا۔ کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد جاری کیے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پیانگ یانگ جوہری ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری کے لیے تیار ہے، جس کے جواب میں جزیرہ نما کوریا پر جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ عسکری مشقیں ختم کر دے گا۔ ساتھ ہی شمالی کوریا نے اس خطے میں قیام امن کے لیے امریکا سے مکمل ضمانت بھی مانگی ہے۔ امریکی صدر اور شمالی کوریائی رہنما کے مابین ہونے والے حالیہ اجلاس کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر قیام امن کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے اس اجلاس کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا محفوظ ہو گئی ہے اور اب لوگ آرام اور چین کی نیند سو سکتے ہیں۔ مغربی ممالک اور اقوام متحدہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے تھے، اسی لیے اس کمیونسٹ ملک پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ تاہم اب امید ہے کہ پیانگ یانگ اپنی جوہری سرگرمیوں کو ختم کرتے ہوئے ان پابندیوں سے نجات حاصل کر سکے گا۔
شمالی کوریا سے تعلقات

Print Friendly, PDF & Email
حصہ