برطانیہ: غیر یورپی ڈاکٹروں کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی

32

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی حکومت یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کرے گی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ آج غیر ملکی ڈاکٹروں اور نرسوں کو حکومتی ویزا کیپ کی فہرست سے نکالنے کی تصدیق کرے گا۔ واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے حکومتی ’ویزا کیپ‘ اس وقت متعارف کروائی جب وہ برطانیہ کی سیکرٹری داخلہ تھیں۔ حکومتی ویزا کیپ کے تحت ایک سال کے دوران 20,700 غیر ہند مند یورپی یونین ملازمین کی حد مقرر ہے لیکن برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین
زیادہ تعداد میں کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو مشکل بناتے ہیں۔ مجوزہ تبدیلیاں ایسے ویزوں سے متعلق ہیں جو یورپی اقتصادی علاقے اور سوئٹزرلینڈ سے باہر کے ہنرمند افراد استعمال کرتے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران یورپی اقتصادی علاقے سے باہر کے ڈاکٹروں کی برطانوی ویزا حاصل کرنے کی 2,360 درخواستیں بظاہر حکومتی کیپ کی وجہ سے مسترد کر دی گئیں۔ واضح رہے کہ این ایچ ایس کے حکام نے اپریل میں متنبہ کیا تھا کہ 100 بھارتی ڈاکٹروں کو ویزا دینے سے انکار کے بعد امیگریشن قوانین غیر ہنر مند ورکروں کو تلاش کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے پاس فروری میں 35 ہزار نرسوں اور تقریباً 10 ہزار ڈاکٹروں کی نوکریاں خالی تھیں۔ تھینک ٹینک گلوبل فیوچرز کے مطابق این ایچ ایس انگلینڈ کا 12.5 فیصد اسٹاف غیر ملکی ہے۔ اس تعداد میں 45 فیصد اضافہ پیڈیاٹرک، کارڈیویالوجسٹ اور نیورو سرجن سمیت مخصوص شعبوں میں ہوا۔ مجوزہ تبدیلی صرف ڈاکٹروں اور نرسوں ہی کے لیے لاگو ہو گی لیکن اگر 20,700 کی مقررہ حد کو تبدیل نہ بھی کیا جائے تو دیگر صنعتوں جیسے کہ آئی ٹی اور تعلیم سے وابستہ ہزاروں غیر ملکی ملازمین کو اب ویزے ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
برطانیہ ؍ امیگریشن

Print Friendly, PDF & Email
حصہ