بھارت میں مزید ساڑھے 5 کروڑ افراد غریب ہوگئے 

35

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) علاج معالجہ پر اخراجات کے نتیجہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران ساڑھے 5کروڑ بھارتی شہری متوسط طبقہ سے نکل کر غریب طبقہ میں شامل ہوگئے اور ان میں سے 3 کروڑ 80 لاکھ محض ادویات خریدنے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ یہ انکشاف پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف بھارت کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ برطانوی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق بھارتی خاندانوں کی آمدن کا ایک بڑا حصہ کینسر، ذیابیطس اور دل کے امراض پر خرچ ہوتا ہے، تاہم سب سے زیادہ اخراجات کینسر کے علاج معالجہ پر ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات
میں زخمی ہونے پر علاج معالجہ کے اخراجات غریب خاندانوں کی مالی حالت کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ علاج معالجہ پر کسی بھی کنبہ کی کل آمدن کے 10 فیصد سے زیادہ اخراجات کو اس کنبہ کے مالی حالات کے لیے تباہ کن تصور کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بعض ادویات کی قیمتیں کم کرنے جیسے اقدامات بھی اس سلسلہ میں غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔سرکاری ہیلتھ انشورنس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ حکومت کی طرف سے سرکاری میڈیکل اسٹورز کے ذریعے سستی ادویات کی فراہمی میں بھی مشکلات ہیں، کیوں کہ ملک میں کھولے گئے اس طرح کے 3 ہزار اسٹورز پر اکثر ادویات دستیاب ہی نہیں ہوتیں اور جو ادویات دستیاب ہیں ان کے معیاری ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔
بھارت/ غریب

Print Friendly, PDF & Email
حصہ