اے ڈی خواجہ نے آئی جی پولیس کا چارج باقاعدہ چھوڑ دیا

56

کراچی (اسٹاف رپورٹر)گزشتہ روز اے ڈی خواجہ نے انسپکٹرجنرل آف پولیس سندھ کے عہدے کا چارج باقاعدہ چھوڑ دیا۔اے ڈی خواجہ نے سینٹرل پولیس آفس میں ایک سادہ سی تقریب میں سی پی او افسران واسٹاف سے مختصراً ملاقات کی اور اپنی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اے ڈی خواجہ نے بحیثیت آئی جی پولیس سندھ سوا دو سالہ مدت میں محکمہ پولیس سندھ کی کارکردگی کو مزید غیر معمولی بنانے کے ساتھ ساتھ افسران اور جوانوں کی فلاح و بہبود و دیگر کے حوالے سے جو اقدامات کیے ،ان میں ٹریفک
کی ٹرانسپورٹ فلیٹ وہیکل کو بہتر کیا۔سی ٹی ڈی کو بہترین تفتیش پر خصوصی ریوارڈز کا اجراء،تمام ڈی پی اوز کے لیے نئی وہیکلز کی فراہمی ،ٹریفک کے لیے لفٹرز، ایمبولینس ، واٹر کینن کی فراہمی،اسکول آف انویسٹی گیشن کا قیام، انویسٹی گیشن کاسٹ کو ڈبل کرنے اور انویسٹی گیشن کے جملہ امور کو بہتر کرنے کی کاوشیں یقینی بنائیں۔شہدائے پولیس کے ورثا کے امدادی پیکیج کو 2 ملین سے 10ملین کیا ،بیوہ فنڈ 3000روپے ماہانہ کیا، شعبہ تفتیش کو خصوصی موبائلز کی فراہمی، پراسیکیوشن کے لیے موٹر سائیکلز کی فراہمی،نصاب کی ترتیب ، آئی این ایل کے تعاون سے سی ٹی ڈی کی عمارت کی تعمیر ، ڈیجٹلائزیشن اور لوکیشن ڈیوائسز کے ذریعے سی ٹی ڈی کی استعدادی صلاحیت میں اضافہ،امجد صابری اور ملٹری پولیس کیسز کے لیے 50ملین سے زائد کا ریوارڈ دینا،اسکول آف انٹیلی جینس کا قیام، اسپیشل برانچ کی تنظیم نو بذریعہ کے نائن اور بی ڈی ایس آلات، اسپیشل برانچ کی کمپیوٹرائزیشن، ماڈرن فارنرز رجسٹریشن برانچ کا قیام،اسٹاف کی دگنی تنخواہ کے ساتھ وومن اینڈ چلڈرن پروٹیکشن ڈیسک کا قیام،تھانہ جات کی سطح پر ہارڈویئر کی فراہمی،سی آ ر او/سی آر آئی کا تمام اضلاع اور جیلز میں قیام ،ایچ آر ایم ایس، پی ایس آر ایم ایس، ہوٹل آئی سمیت فورتھ شیڈول پر عمل درآمدی اقدامات،ٹرانسپورٹ پروکیورمنٹ کا ریکارڈ رکھنا،27000رشین ایس ایم جیز، 12000پستول، بلٹ پروف جیکٹس ، بلٹ پروف ویسٹ ،اے پی سیز کی خریداری،کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز، سی سی ٹی وی، ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کی ریسٹوریشن،ویلفیئر اینڈ بینوویلنٹ ،شہدائے پولیس کے ورثاء کے امدادی پیکیج کو 2 ملین سے 10ملین کرنا،آن لائن فنڈ کی تقسیم،تمام زخمی پولیس اہلکاروں کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی، اہل طلبہ کو اسکالر شپ دینا،27000پولیس اہلکاروں کی میرٹ پر بھرتی، پاک آرمی کے ذریعے ان کی تربیت۔ ٹریننگ ، اسٹاف آف ٹریننگ کالجز کی تنخواہ ڈبل کرنااور ٹریفک اسٹاف کی تعداد 2200سے 7000کرنا شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ