پرویز مشرف پیش نہیں ہوئے ،عدالت عظمیٰ نے الیکشن لڑنے کی اجازت واپس لے لی 

115

لاہور (نمائندہ جسارت،آن لائن) سابق صدر جنرل( ر)پرویز مشرف عدالتی مہلت کے باوجود پاکستان نہ آسکے اور ملک واپس آنے کے لیے وقت مانگ لیا۔ عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر کاغذات نامزدگی منظور کرنے کی عبوری اجازت واپس لے لی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں چار رکنی فل بنچ نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ملک واپسی کے معاملے پر سماعت کی۔. جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے بنچ کو آگاہ کیا کہ پرویز مشرف نے عدالت میں پیش ونے کے لیے وقت مانگاہے۔ وکیل کے مطابق پرویز مشرف پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن عید کی تعطیلات اور موجودہ حالات کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے۔ عدالت عظمیٰ کے فل بنچ نے گزشتہ روز پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے دوپہر دو بجے تک کی مہلت دی تھی لیکن پرویز مشرف نے پیش ہونے کے بجائے مزید مہلت کی استدعا کر دی۔ فل بنچ نے پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر کاغذات نامزدگی منظور کرنے کی عبوری اجازت واپس لے لی ۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں فل بنچ نے پرویز مشرف کے ملک واپسی کے معاملے پر کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی اور ہدایت کی کہ دوبارہ درخواست دینے پر معاملہ پر کارروائی کی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ کے کاغذات نامزدگی کے بارے میں عبوری حکم واپس لینے پر پرویز مشرف عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا شناختی کارڈ بحال کردیاہے اور ان کے پاسپورٹ کی بحالی سے متعلق بھی غور کیاجارہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ