انتخابات فوج کی زیر نگرانی کرانے کا فیصلہ

91

اسلام آباد(آن لائن،اے پی پی)چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی زیر صدارت انتخابات کے دوران سیکیورٹی سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائے گی۔فیصلے کے مطابق بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور ترسیل بھی فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں گزشتہ روز الیکشن2018ء کے موقع پر سیکورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے کی۔اجلاس میں سیکورٹی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔صاف شفاف غیرجانبدارانہ انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں الیکشن2018ء کے موقع پر حساس پولنگ ا سٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کوئیک رسپانس فورس کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی ۔صوبوں کی طرف سے ہرممکن اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ حساس اور انتہائی احساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس حوالے سے فاٹا میں فنڈز کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صرف سکیورٹی کے حوالے سے ہی انتظامات کررہی ہے۔اجلاس میں فاٹا میں پولنگ اسٹیشنوں کے اندر سی سی ٹی کیمروں کی فراہمی یقنی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی جبکہ الیکشن کمیشن اور صوبوں کے درمیان مربوط رابطوں کی حکمت عملی بھی طے کی گئی۔اجلاس میں فوج ،رینجرز اور کوئیک رسپانس کی فورس کی تعداد پر فوج سے مزید رابطوں کا فیصلہ کیا گیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبوں کو تمام ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل الیکشن کمیشن ندیم قاسم نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں انتہائی اہم اجلاس ہوا ہے۔ اجلاس میں عام انتخابات کی سیکورٹی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ 2013 کے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکورٹی پلان ترتیب دیا گیا۔20 ہزار کے قریب حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔صوبائی حکومتیں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی پابند ہوں گی۔بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ اور ترسیل فوج کی نگرانی میں ہو گی،یہ انتظامات 27جون تا 25جولائی تک جاری رہیں گے۔ندیم قاسم نے مزید کہا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات ہو گی۔الیکشن ایکٹ 233 کے تحت سیکورٹی اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا ہے۔ضرورت پڑنے پر سیکورٹی کے حوالے سے نیکٹا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔پریزائڈنگ آفسیرز کی عید کے بعد تربیت شروع ہو گی۔صوبائی حکومتوں کو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور پولنگ عملے کی سیکورٹی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔پچاسی ہزار پولنگ ا سٹیشنوں کی 45 ہزار لوکیشنز ہیں جہاں فوج تعینات ہو گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جو کوڈ آف کنڈیکٹ مرتب کیا ہے اس پر مکمل عمل درآمد صوبائی حکومتوں کی زمہ داری ہوگی ۔اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دیگر ممبران کی جانب سے الیکشن تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کو ہوگا جس کے لیے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ