مقبوضہ کشمیر میں صحافی سمیت 3 شہید،شدید احتجاج ،مزاکرات ناگزیر ہیں،بھارتی آرمی چیف 

173

سرینگر (اے پی پی+صباح نیوز) مقبوضہ کشمیر میں معروف صحافی سمیت مزید 4افراد شہید ہوگئے۔ بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران جمعرات کو ضلع بانڈی پورہ میں آپریشن کی آڑ میں 2 نوجوان شہید کردیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے پنار میں نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں سرینگر میں معروف صحافی شجاعت بخاری کو ان کے دفتر کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے شجاعت بخاری پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے اخبار کے دفتر ڈیلی رائزنگ کشمیر سے اپنے 2 محافظوں کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھنے کے لیے نکلے۔پولیس سربراہ نے بتایا مسلح افراد کے حملے میں شجاعت اور ان کا ایک محافظ شہید ہواجبکہ دوسرا محافظ زخمی ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ادھر مقبوضہ مقبوضہ وادی میں فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نو جوانوں پر ظلم و تشدد کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا ، وہ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہے تھے ۔دوسری جانب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری عوام مسلسل جدوجہد آزادی میں تیزی سے شامل ہو رہے ہیں۔ جنرل بپن راوت نے اکنامک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہاکہ ہم جتنے لوگوں کو مارہے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ مسلح جدوجہد میں شامل ہو رہے ہیں ۔بھارتی جنرل کا کہنا تھاکہ درندازی کو روک سکتے ہیں لیکن نوجوانوں کو تحریک میں شمولیت سے نہیں روک سکتے لہٰذا مذاکرات ناگزیر ہیں اور جموں وکشمیرمیں امن کو موقع دیاجانا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ