مقبوضہ کشمیر میں 30 سالہ قتل عام کی تحقیقات کیلیے عالمی کمیشن بنایا جائے،اقوام متحدہ 

121

نیویارک اسلام آباد(آن لائن،اے پی پی) اقوام متحدہ نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کیخلاف بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ وادی میں 30 سال سے جاری قتل عام کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کردی۔ مقبوضہ کشمیر میں ’انسانی حقوق کی صورتحال‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ 49 صفحات پر مشتمل ہے جس میں جولائی 2016 سے 2018 تک وادی میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر7دہائیوں سے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکارہے۔ مقبوضہ وادی میں لوگوں پرسب سے خطرناک ہتھیارپیلٹ گنزکا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ہزارو ں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے۔یو این رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 سے مارچ 2018 تک 145معصوم کشمیری شہید ہوئے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 28سالوں سے خصوصی آرمڈفورسز ایکٹ نافذ ہے تاہم اب تک کسی ایک بھی بھارتی فوجی پرمقدمہ نہیں چل سکا۔انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید رادالحسین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بارے میں جامع بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام دونوں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور تمام لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے جو گذشتہ سات دہائیوں سے اس تنازعے کا سامنا کر رہے ہیں جس نے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 برس کے دوران فوج یا مسلح شدت پسندوں کے ہاتھوں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں اور قتل اور حقوق کی دیگر پامالیوں میں ملوث فوجی و نیم فوجی اہلکاروں کے مقامی مواخذہ میں حائل فوجی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق 2016 کے میں برہان وانی کی ہلاکت سے 2018 کے مارچ تک 130 سے 145 کشمیری مظاہرین فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے۔ رپورٹ میں سکیورٹی آپریشنز کے دوران مارے گئے افراد یا رہائشی مکان کھونے والے افراد کو معاوضہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔رپورٹ میں مسلح شدت پسند گروپوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے چھٹی پر گئے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کا قتل کیا اور کئی ہندنواز سیاسی کارکنوں پر حملے کیے۔ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سرحدوں پر جاری کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ سے متعلق یہاں کے علیحدگی پسندوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکومت ہند کی وزارت خارجہ نے اسے “جھوٹ کا پلندہ” قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ کہا ہے کہ یہ رپورٹ خاص مفاد کو زیرنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے اور اس کی صداقت اور غیرجانبداری پر ہم سوال اْٹھا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2016 سے مظاہرین کے خلاف استعمال کیا جانے والا سب سے مہلک ہتھیار پیلٹ گن ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سے جولائی 2016 سے اگست 2017 کے درمیان سترہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ چھ ہزار سے زائد زخمی بھی ہوئے۔رپورٹ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جو اس رپورٹ کے مطابق مختلف نوعیت اور شدت کی ہیں۔ رپورٹ میں نمایاں کیے جانے والے مسائل میں پاکستان کے پاس ان دو “علاقوں” کی آئینی حیثیت بھی شامل ہے۔ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں اس کے زیر انتظام کشمیر پر موثر طریقے سے کنٹرول رکھا ہے۔ پاکستان نے گلگت بلتستان میں بھی وفاقی حکام کے ذریعے مکمل کنٹرول کیا ہوا ہے اور وفاقی انٹیلی جنس اداروں کو دونوں علاقوں میں تعینات کیا جاتا رہا ہے۔.اقوام متحدہ نے رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر تشدد کے سلسلے کو بند کر کے معنی خیز مذاکرات کے عمل سے حل ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیں پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفترخارجہ نے جمعرات کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ان مطالبوں سے مطابقت رکھتی ہے جو پاکستان 2016ء سے لے کر اب تک مسلسل کرتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت پیلٹ گنز کے استعمال، ماورائے عدالتی قتل و گرفتاریاں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنسی تشدد سمیت بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے حوالے سے جائز مطالبوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی تمام تر توجہ بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر پر ہے۔ رپورٹ میں بیان کردہ مواد اور قتل عام کا بیانیہ بین الاقوامی برادری کے لیے پاکستان کے بیانیہ سے مماثلت رکھتا ہے جو پاکستان طویل عرصہ سے اجاگر کر رہا ہے تاہم دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات کو انڈیا کے زیرتسلط جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے برابر نہیں کہا جا سکتا۔ اقوم متحدہ کی رپورٹ میں کشمیر کے دیرینہ تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ درست اور حقیقت پر مبنی ہے۔ کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل خطہ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے ،تاہم بھارت کی جانب سے بات چیت اور مذاکرات سے مسلسل انکار نے علاقائی و بین الاقوامی امن و استحکام کو خطرے سے دو چار کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر کے تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ