اربوں روپے کا کاروبار کرنیوالے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں، ایف بی آر

158

اسلام آباد (آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں گزشتہ 4 برسوں کے دوران 6 ہزار 348 دولت مند شہریوں نے مجموعی طور پر 106 ارب روپے کا لین دین کیا۔ ایف بی آر کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد کی مہنگی ترین اراضی ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ریٹ پر تفویض کی گئی جو کہ اصل قیمت کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ
اسلام آباد میں 2014ء سے 2017ء کے درمیانی عرصے میں 3 ہزار 530 رہائشی اور 2 ہزار 818 کمرشل اراضی خریدی گئیں۔ ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’’ارسال کی گئی تفیصلات کی مد میں موصول ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف سے زائد شہری ٹیکس نیٹ میں شامل ہی نہیں۔ یعنی اربوں روپے کا لین دین تو جاری ہے لیکن ان کے پاس ٹیکس نمبر تک موجود نہیں، اس لیے متعلقہ افراد کے خلاف ایف بی آر کارروائی کرے گا، جس کے نتیجے میں غیرمعمولی ریونیو حاصل ہوگا‘۔ واضح رہے کہ دارالحکومت میں رہائشی اور کمرشل اراضی خریدنے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشیوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی جس کے بعد پشاور میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں وسیع پیمانے پر سرمایہ لگایا گیا، پشاور کے بعد کراچی اور پھر لاہور کا نمبر آتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی تفصیلات اور ان کے لین دین سے متعلق ساری معلومات ملک کے 15 ریجنل ٹیکس آفسز میں ارسال کی گئیں تاکہ متعلقہ اشخاص کو نوٹس کے ذریعے مطلع کرکے ان کی آمدنی کے ذرائع معلوم کیے جاسکیں۔