روشن خیالی کی طرف گامزن سعودی ریاست

347

سعودی عرب میں جو کھچڑی پک رہی ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں کے کلچر میں جو تبدیلی آرہی ہے، یہ ایک بڑی تشویشناک صورت حال ہے۔ وہاں روشن خیالی کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ ہم نے بھی اس جانب پیش رفت کی تھی۔ پرویز مشرف کے دور میں ہمیں دو نعرے دیے گئے تھے یعنی روشن خیالی اور اعتدال پسندی۔ مقصد یہ تھا کہ دنیا کو اسلام کا سافٹ امیج دکھایا جائے۔ ہم اگر مسلمان ہیں تو ہمیں حق ہے کہ ہم کہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن ہندوؤں کو یہ نہ کہیں کہ وہ کافر ہیں لہٰذا جہنم میں جائیں گے۔ عیسائیوں کو بھی یہ نہ کہا جائے۔ تم اپنے تئیں خود کو درست سمجھتے رہو لیکن دوسروں کو غلط نہ کہو۔ انہوں نے لاہور میں پولیس اور فوج کی نگرانی میں خواتین کی میراتھن ریس کروائی تھی۔ اور پوری دنیا میں اسے دکھایا گیا تاکہ دنیا جان لے کہ ہم اعتدال پسند ہوگئے ہیں۔ بہرحال وہ ہمارے ملک کے لیے ایک المیہ تھا۔ بیرونی قوتیں اس پر تھپکی دیتی ہیں کہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے۔ اسی صورت حال پر قادیانیوں کا مسئلہ پیش آیا جس پر مظاہرے بھی ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب میں بھی انہی خطوط پر کام شروع ہوچکا ہے۔ اب علماء کی طرف سے یہ بات آرہی ہے کہ عبایا کو لازم قرار دینا غلط ہے اور ویلنٹائن ڈے منانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہاں اس ضمن میں فتوے جاری ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کس کے زیر سرپرستی یہ ہورہا ہے اس سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ وہاں کا نظام عریاں ملوکیت پر مبنی ہے۔ سعودی ریاست Kingdom of Saudi Arabia کہلاتی ہے۔ وہ جمہوریت کا لفظ اپنی ریاست کے ساتھ لگانے کا تردد بھی نہیں کرتے۔ اس معاملے میں وہ بالکل یکسو ہیں۔ وہاں اب سینما گھر کھولنے کی اجازت بھی دی جارہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں امریکا کا منظور کردہ اسلام رائج ہوگا۔ جو کام یہاں پرویز مشرف نے کیا تھا اسے وہاں دہرایا جارہا ہے۔
دوسرا اہم ایشو یہ ہے کہ امریکا پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ امریکا افغانستان میں پاکستان کی مدد لینے کے لیے ہمارا بازو مروڑ رہا ہے۔ ہم پر ہر قسم کا دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے مفادات کے لیے کام کرے۔ پیرس میں اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں فرانس کے علاوہ امریکا، برطانیہ اور جرمنی شامل ہوں گے۔ اس اجلاس میں یہ غور کیا جائے گا پاکستان کو مالیاتی دہشت گردی کا مرتکب قرار دیا جائے۔ یہ ایک بار پھر اسی قسم کی کوشش ہے جو نائن الیون کے بعد پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادی بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ دھمکی دی گئی تھی کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ۔ پرویز مشرف امریکا کے سامنے ڈھیر ہوگیا تھا اور جس پر پوری قوم نے صاد کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے بجائے کچھ اور ہی شے پسند کی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں سے در گزر فرمائے۔ ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اگر ہم نے خوف کی وجہ سے امریکا کی اس بار بھی مدد کی تو شاید ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنا بھی دشوار ہوجائے۔ اللہ کی طرف سے ہمیں جو مہلت ملی ہوئی ہے شاید وہ بھی ختم ہوجائے۔ ہمیں ڈٹ جانا چاہیے اور بقول ذوالفقار علی بھٹو قوم کو گھانس کھاکر بھی اپنا گزارا کرنے کا تہیہ کرنا چاہیے لیکن ہم ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ ان کی اس بات کی سب نے تحسین کی تھی۔ اس قسم کا جذبہ ہو اور اسلام کے حوالے ہم میں حمیت موجود ہو تو کام بنے گا۔ پاکستان کو کسی دھمکی کی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ بظاہر احوال موجودہ حکومت کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا مشکل نظر آتا ہے۔ حکومت نے امریکا کے حکم پر ہی جماعۃ الدعوۃٰ کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کو امریکی حکومت نے اچھی کارروائی قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امریکا کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے لیے آمادہ ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ذمے داروں کو صحیح سوچ عطا فرمائے اور اس طریقے کار کو اختیار کرنے کی جو دینی اعتبار سے درست ہو توفیق عطافرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔