۔7لاکھ 20ہزار روہنگیا بچوں کو خطرات 

130
میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے بلڈوز کیے گئے دیہات کی نئی سیٹلائٹ تصاویر
میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے بلڈوز کیے گئے دیہات کی نئی سیٹلائٹ تصاویر

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے 7لاکھ 20ہزار روہنگیا بچوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یونیسف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش میں بارش کا موسم شروع ہونے کو ہے، اوراس دوران بنگلادیش طوفانوں اور دریائی طغیانی کی زد میں رہتاہے۔ رپورٹ کے مطابق میانمر کی ریاست راکھین میں اب بھی ایک لاکھ 85ہزار روہنگیا بچے موجود ہیں ،جب کہ بنگلادیش ہجرت کرنے والے
بچوں کی تعداد 5لاکھ 34ہزارہے ۔یونیسف کے ڈائریکٹرمانویل فانٹائن نے روہنگیا بچوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 7لاکھ 20ہزار بچے کسمپرسی کی حالت میں ز ندگی گزار رہے ہیں ۔میانمر میں ان پر مقامی حکومت کی جانب سے ظلم و تشدد کر کے ملک بدری پر مجبور کیا جارہا ہے ،جب کہ بنگلا دیش میں وہ بدانتظامی اورکیمپوں میں گنجایش سے زیادہ پناہ گزینوں کی باعث روز مرہ کے لڑائی جھگڑوں اور کھانے کے حصول کے لیے لوگوں کے درمیان پس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی تیار نہیں کی گئی ، جب کہ اگر باقاعدہ منصوبے کے تحت بھی ان بچوں کو راکھین واپس پہنچایا جائے، تو انہیں وہاں آبادکرنے میں کئی برس لگ جائیں گے ۔ ادھر تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ میانمر کی حکومت نے راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے کئی دیہات پوری طرح مسمار کر دیے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ تصاویر امریکی ریاست کولوراڈو میں قائم ادارے ڈیجیٹل گلوب نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو فراہم کی ہیں۔ ادارے کے مطابق میانمر کی حکومت نے اپنی اس کارروائی سے اہم شہادتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گزشتہ سال کے اواخر سے اب تک میانمر حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے 55 گاؤں مسمار کر دیے ہیں۔ انسانی حقوق تنظیم نے میانمر میں روہنگیا مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کی شدید مذمت بھی کی۔ شمالی راکھین میں میانمر کی فوج کی جانب سے کی جانے والی ان کارروائیوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ان 55 دیہات کو بلڈوزروں کی مدد سے مسمار کر کے میانمر فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے شواہد ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کو موصول ہونے والی تصاویر میں روہنگیا کی تباہ شدہ بستیوں کے علاوہ بلڈوزروں سے ہموار کیے گئے علاقوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل ان افسوسناک مناظر کی تصاویر پہلی مرتبہ میانمر میں یورپی یونین کے سفیر کرسیٹیان شمڈ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی تھیں۔ انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم کے ایشیا ریجن کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کے مطابق بلڈوز کیے گئے دیہات روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کا ثبوت ہیں۔ ایڈمز کا مزید کہنا تھا کہ روہنگیا مسمانوں کی جغرافیائی تاریخ اور یادگاروں کا تحفظ کیا جانا چاہیے، تاکہ اقوامِ متحدہ غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمے داروں کی شناخت کر سکے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کی نسلی عصبیت سماج میں بڑھتی نفرت انگیزی کا نتیجہ ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس کریک ڈاؤن کو روہنگیا مسلمانوں کی نسلی تطہیر قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی تھی۔ گزشتہ سال اگست میں میانمر کی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے اب تک قریب 7 لاکھ روہنگیا افراد ہجرت کر کے بنگلادیش پہنچے ہیں۔
روہنگیا بچے