عا لمی مالیاتی تنظیم کا اجلاس ختم،پاکستان کو گرے لسٹ سے بچنے کیلیے 3ماہ کی مہلت

212
عا لمی مالیاتی تنظیم کا اجلاس ختم،پاکستان کو گرے لسٹ سے بچنے کیلیے 3ماہ کی مہلت
عا لمی مالیاتی تنظیم کا اجلاس ختم،پاکستان کو گرے لسٹ سے بچنے کیلیے 3ماہ کی مہلت

کراچی/اسلام آباد/پیرس(اسٹاف رپورٹر+ خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ سے بچنے کے لیے 3ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ پیرس میں اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں جن ممالک کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا ہے ان میں پاکستان کانام موجود نہیں۔فہرست میں سری لنکا، عراق، ایتھوپیا، شام، سربیا، ٹرینڈاڈ ٹوباگو، وناتو اور یمن کے نام شامل ہیں ۔ بوسنیا ہرزوگوینا کا نام اس فہرست سے نکال لیا گیا ہے جن کی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ترجمان الیگزینڈر ڈانیالے نے کہا ہے کہ پاکستان کو تادیبی اقدامات کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور اس دوران پاکستان نے یہ اقدامات نہ اٹھائے تو اس کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں۔ترجمان ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ فی الحال پاکستان سے متعلق سب قیاس آ رائیاں ہیں اور بھارتی سفارت کار کچھ چیزیں لیک کررہے تھے۔ان کا کہنا تھاکہ ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کا نام گرے فہرست میں شامل کرنے کی خبروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں پیرس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے بعدوطن واپس پہنچنے پر وفاقی حکومت کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر چیز صحیح جا رہی ہے۔پاکستان کو کچھ بھی نہیں ہوگا اورلسٹ میں شامل کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو نظر آرہا ہے کہ اس میں امریکی اثر و نفوذ استعمال ہوا ہے اور جو ممالک ہمارے خلاف ہوئے ان کی ساکھ ضرور متاثر ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی جون سے پہلے کچھ نہیں ہوگا اور ہم سیاسی مسئلے بھی سارے سلجھالیں گے، معیشت کا پہیہ نہیں رکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر فنانشل ٹیررازم کا جو فریم ورک ہے وہ انتہائی مضبوط ہے اور اس پر ہم نے عملدرآمد بھی کیا ہے۔ مفتاح اسماعیل کے بقول بھارتی میڈیا میں بہت قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جنہیں قیاس آرائیاں ہی سمجھا جائے اور اگر گرے لسٹ ہوتے بھی تو کوئی آفت نہیں آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی اثر ورسوخ بڑا استعمال کیا گیا ہے اور عموماً ایک ہی راؤنڈ ہوتا ہے جس میں فیصلہ ہوتا ہے اور دوسرے راؤنڈ میں اس فیصلے کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس بار نئی روایت قائم کی گئی کہ کوئی قرارداد پاس نہیں ہوئی اس کے باوجود اسے دوسرے راؤنڈ میں پھر اٹھایا گیا۔ ادھر ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وارپریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا نے حالیہ مہینوں میں یکطرفہ اقدامات اٹھائے جس سے تعلقات متاثر ہوئے ‘ ہمارے خلاف تحریک پیش کرنے پر سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو دوٹوک الفاظ میں بتادیا کہ اب اعتمادبھی اسے ہی بحال کرنا ہوگا۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی ماہرین نے پاکستانی انرجی سیکٹر کو جدید بنانے میں شرکت پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔