ایون فیلڈریفرنس: برطانوی گواہ پر جرح ممکن جے آئی ٹی کا اصل ریکارڈ پیش 

208
ایون فیلڈریفرنس: برطانوی گواہ پر جرح ممکن جے آئی ٹی کا اصل ریکارڈ پیش 
ایون فیلڈریفرنس: برطانوی گواہ پر جرح ممکن جے آئی ٹی کا اصل ریکارڈ پیش 

اسلام آباد( صباح نیوز )اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے وکلا نے نیب کے غیرملکی گواہ پر جرح مکمل کر لی ۔واجد ضیا کی جانب سے جے آئی ٹی کا اصل ریکارڈ بھی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر بھی کمرا عدالت میں موجود تھے،پاکستان ہائی کمیشن سے نیب کے برطانوی گواہ فرانزک ماہر رابرٹ ریڈلی سے جرح لندن سے بذریعہ وڈیو لنک کی گئی۔رابرٹ ریڈلی کا کہنا تھا کہ میں کل کے اپنے بیان میں تصحیح کرنا چاہتا ہوں جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا بیان مکمل ہو چکا ہے اور اب اس پر جرح جاری ہے تاہم اگر بیان میں کچھ تبدیلی چاہتے ہیں تو وہ مرحلہ بعد میں آئے گا۔اس موقع پر رابرٹ ریڈلی کی جانب سے تیار کیے گئے نکات خواجہ حارث کو دے دیے گئے ۔مریم نواز ، حسن اور حسین نواز کے وکیل امجد پرویز نے بھی نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلی پر جرح کی ۔ دوران جرح رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ اگر وقت کی کمی نہ ہوتی تو 10 گنا بڑی رپورٹ تیار کر سکتا تھا۔خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ کیا آپ آئی ٹی اور کمپیوٹر ایکسپرٹ ہیں؟ اس پر گواہ نے کہا کہ میں کمپیوٹر کا ایکسپرٹ نہیں ہوں۔نیب کے دوسرے گواہ اختر راجا کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔وکیل ا مجد پرویز نے راجا اختر سے سوال کیا کہ کیا آپ پاکستانی ہیں؟ جس پر راجا اختر نے جواب دیا کہ میں دہری شہریت رکھتا ہوں، واجد ضیا کا فرسٹ کزن ہوں ،جے آئی ٹی نے اس کیس کے لییمیری خدمات حاصل کیں ، امجد پرویز نے کہا کہ آپ کو اس کام کے لیے کتنی فیس دی گئی جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا استحقاق ہے کہ فیس نہیں بتا سکتا، یہ سوال ذاتی نوعیت کا ہے۔کیس کی سماعت 2مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔