یورپ کوبین الاقوامی سطح پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا

68
برلن: جرمن چانسلر انجیلا مرکل پارلیمان کے ایوان زیریں سے خطاب کررہی ہیں
برلن: جرمن چانسلر انجیلا مرکل پارلیمان کے ایوان زیریں سے خطاب کررہی ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے یورپ کو عالمی سطح پر درپیش اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے خلاف خبردار کیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس امر کا اشارہ دیتا ہے کہ جرمنی میں نئی مخلوط حکومت کی تشکیل میں یورپی مستقبل کیا کردار ادا کرے گا۔ خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق جرمن چانسلر نے گزشتہ روز پارلیمان کے ارکان سے اپنے خطاب میں کہا کہ یورپ کو اس وقت بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور اقتصادی دونوں طرح کے دباؤ کا سامنا ہے ۔ ان کا یہ بیان اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ آج برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک کا ایک سربراہی اجلاس ہو رہا ہے ، جس میں مرکزی توجہ اس یورپی بلاک کے لیے مستقبل میں مالی وسائل کی فراہمی پر مرکوز رہے گی۔ انجیلا مرکل نے جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں سے(باقی صفحہ 9 نمبر 24)
اپنے خطاب میں کہا کہ یورپی ادارے اب دنیا بھر میں ہر شعبے میں قائدانہ کردار ادا نہیں کر رہے۔ اس وقت یورپی یونین کے رکن ممالک کی تعداد 28ہے اور مارچ 2019ء کے آخر تک برطانیہ کے یونین سے اخراج یا بریگزٹ کے بعد یہ تعداد 27 رہ جائے گی۔ اس تناظر میں برسلز میں آج ہونے والا یونین کا سربراہی اجلاس اس وجہ سے بہت اہم ہے کہ اس میں 2020ء کے بعد کی 27 رکنی یونین کے مالیاتی امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ اس حوالے سے جرمن چانسلر نے اپنے پالیسی خطاب میں کہا کہ جرمنی کے لیے یورپی یونین اتنی اہم ہے کہ خود جرمنی بھی اپنی طرف سے بہت اچھی اقتصادی اور مالیاتی کارکردگی کا مظاہرہ اسی وقت کر سکتا ہے جب یونین بھی انہی شعبوں میں بہت اچھی کارکردگی دکھائے ۔ انجیلا مرکل نے مزید کہا ہے کہ یورپی یونین شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تقویت دے ۔ انہوں نے یورپی یونین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس اور ایران پر اپنے سفارتی دباؤ میں اضافہ کرے تا کہ وہاں پرتشدد حالات کا خاتمہ ہو سکے ۔
یورپ ؍ دباؤ