مصر نے رفح گزر گاہ بند کردی فلسطینی شہری سرحد پر پھنس گئے

106
قاہرہ: فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد رفح گزر گاہ پر موجود ہے‘ مصر کی جانب سے واحد سرحدی راستہ بند کرنے پر مریض اور مسافر پریشان ہیں
قاہرہ: فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد رفح گزر گاہ پر موجود ہے‘ مصر کی جانب سے واحد سرحدی راستہ بند کرنے پر مریض اور مسافر پریشان ہیں

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصری حکام نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کو ملانے والی رفح گزرگاہ بدھ کے روز چند گھنٹے کے لیے کھولنے کے بعد بغیر وجہ بتائے دوبارہ بند کردی ہے ۔ عرب ٹی وی کے مطابق قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے رفح گزرگاہ کو دونوں طرف کی آمد روفت کے لیے بند کردیا ہے جب کہ بدھ ہی کے روز گزرگاہ 4 روز کے لیے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے ، اسماعیلیہ اور العریش کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ پر انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک کرائسز سیل قائم کیا گیا ہے۔ سرحد پر پھنسے افراد کی سہولت کے لیے ایمرجنسی فون نمبر مختص کیے گئے ہیں جو کسی بھی پریشانی یا مسئلے کی صورت میں فلسطینی سفارت خانے سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ قبل ازیں عرب لیگ میں فلسطین کے مستقل مندوب اور قاہرہ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے رفح گز رگاہ کھولنے پر مصری صدر عبدالفتاح سیسی کا شکریہ ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رفح گزرگاہ کھلنے سے محصورین غزہ کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز 652 فلسطینی مسافر گزرگاہ عبور (باقی صفحہ 9 نمبر 21)کرکے مصر داخل ہوئے جنہیں 5 بسوں کے ذریعے لے جایا گیا جب کہ اس موقع پر بیماروں کو لے کرجانے والی10 ایمبولینسیں بھی شامل ہیں۔
مصر ؍ رفح گزر گاہ